صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 690 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 690

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۹۰ بَاب ٥٠ : حَمْلُ الرِّجَالِ الْجَنَازَةَ دُونَ النِّسَاءِ جنازہ مرداٹھا ئیں نہ کہ عورتیں ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣١٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۱۳۱۴ عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ عَنْ سَعِيدٍ کہا: لیٹ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید مقبری سے، الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ سعید نے اپنے باپ(کیسان) سے روایت کی کہ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے سنا کہ رسول اللہ قَالَ إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ رکھ دیا جائے وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ اور مرد اپنے کندھوں پر اٹھالیں تو وہ اگر نیک (روح) كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِمُونِي وَإِنْ ہوئی تو وہ کہے گی مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا أَيْنَ ہوئی تو وہ کہے گی: وائے مصیبت۔تم اسے کہاں لئے يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ جارہے ہو۔اس کی آواز سوائے انسان کے ہر چیز سنے إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهُ صَعِقَ۔گی۔اگر وہ سن پائے تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔اطرافه: ۱۳۱٦، ۱۳۸۰۔تشریح: اس میں صرف مردوں کے اٹھانے کا ذکر ہے یہ تخصیص بتاتی ہے کہ عورتیں نہیں اٹھایا کرتی تھیں۔ابو یعلی نے حضرت انس ہی یہ روایت نقل کی ہے: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى نِسْوَةً فَقَالَ أَتَحْمِلْنَهُ فَقُلْنَ لَا قَالَ أَتَدْفُنَّهُ قُلْنَ لَا قَالَ فَارْجِعْنَ مَا زُورَاتٍ غَيْرَ مَأجُورَاتِ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۳۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک جنازہ میں نکلے تو آپ نے کچھ عورتیں دیکھیں۔آپ نے فرمایا: کیا تم اسے اٹھاؤ گی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔فرمایا: کیا اسے دفن کرو گی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔فرمایا: تو لوٹ جاؤ عورتوں کا دائرہ عمل مردوں کے دائرہ عمل سے بوجه تفاوت قوی و وظائف اعضاء جدا جدا ہے۔مشقت طلب کاموں سے نہ صرف جنس لطیف کو ہی بلکہ کمزور مردوں کو بھی مستثنیٰ رکھا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ (النساء:۹۹) { سوائے ان مردوں اور عورتوں کے جنہیں کمزور بنا دیا گیا تھا۔مزید تشریح کے لئے دیکھئے باب ۵۲ روایت نمبر ۱۳۱۶۔يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ : میت کی گفتگو جسمانی نہیں جسم تو معطل ہو چکا ہے۔اس کا تعلق عالم روحانی سے ہے۔سننے والی کائنات بھی اسی عالم کی ہے۔اولیاء اللہ کو اس کا مشاہدہ دنیا میں بھی کرایا جاتا ہے۔حَمُلُ الرِّجَالِ الْجَنَازَةَ دُونَ النِّسَاءِ: روایت نمبر ۱۳۱۴ سے جو استدلال ضمنا کیا گیا ہے