صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 53 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 53

حيح البخاری جلد ۲ ۵۳ ١٠ - كتاب الأذان وَالْمَشْيُ فِي الْأَرْضِ بِأَرْجُلِهِمْ۔قدموں کے نشان مراد ہیں اور زمین پر پیدل چلنا اطرافه: ٦٥٥ ١٨٨٧- تشریح: مراد ہے۔احْتِسَابُ الآثَارِ اثر کے معنی بَقِيَّةُ شَيْءٍ یعنی کسی چیز کا باقی ماندہ نشان کسی عمل کا رد عمل جو نفس کے اندر پیدا ہوتا ہے۔اس کو بھی اثر کہتے ہیں۔جیسا کہ اس باب کی پہلی روایت میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس سے یہی رد عمل مراد ہے۔یعنی اعمال کے مخفی اثرات جو نفس میں محفوظ رہتے ہیں اور ان اعمال کے نتائج وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ (سورة لسین : ۱۳) یعنی ہم ان کے وہ اعمال جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں اور ان کے اعمال کے اثرات اور نتائج سب محفوظ رکھیں گے۔ایسا ہی اثر کے معنی قدم کا نشان جو زمین پر پڑتا ہے۔یہ بھی ایک قسم کا رد عمل ہی ہوتا ہے۔احتساب کے معنی کسی فعل میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کے ثواب کو مد نظر رکھنا۔عنوان باب کو مطلق رکھ کر اعمال کے نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر کئے جائیں اور جس روایت کا حوالہ دیا ہے۔اس میں ثواب کا ذکر ہے جو نمازی کو مسجد تک چلنے میں قدم قدم پر ملتا ہے۔قبیلہ بنو سلمہ کے گھر مسجد نبوی سے دور تھے۔بعض کا فاصلہ ایک میل سے بھی زیادہ تھا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۸۳) اور ان کو باجماعت نماز کے لئے دور سے آنا پڑتا تھا تو انہوں نے چاہا کہ مسجد کے قرب وجوار میں مکان خرید لیں۔مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت نہ دی۔جس کی وجہ روایت مذکورہ بالا کی دوسری سند ( نمبر ۶۵۶) میں بتائی گئی ہے۔جس میں یہ الفاظ ہیں: فَكَرِهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَة۔۔۔يعنى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے نا پسند فرمایا کہ ان کا اپنی بستیوں کو چھوڑ کر چلا آنا مدینہ کو غیر محفوظ کر دے گا۔آپ نے فرمایا: اَلا تَحْتَسِبُونَ اثَارَكُمْ فِي ﷺ نے ان کو اس خطرہ کی طرف توجہ نہیں دلائی جو ایک اعتبار سے ثانوی حیثیت رکھتا تھا بلکہ رضاء الہی کی طرف متوجہ فرمایا۔انبیاء کی نظر در حقیقت اسباب سے ماوراء اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتی ہے۔عالم اسباب میں رہ کر اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اسباب سے فائدہ اٹھاتے ہیں مگر ان پر بھروسہ نہیں کرتے۔اس لئے آپ نے بنی سلمہ کے لوگوں کی توجہ مرکزی نقطہ عمل کی طرف محبت بھرے الفاظ سے منعطف کی ہے۔یعنی برضائے الہی جس کا دارومدار نیت پر ہے اور اس جدو جہد پر جو انسان کو اعمال کی نگہداشت میں صرف کرنی پڑتی ہے۔اس روایت سے امام موصوف نے باجماعت نماز کی چھپیں یا ستائیس درجے فضیلت کی حقیقت آشکار کر دی ہے۔یعنی رضائے الہی کی نیت رکھنے کے ساتھ ایک چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی انسان کو قدردانی کا مستحق بنا دیتی ہے اور جو قدم بھی وہ نیکی کے لئے اٹھاتا ہے۔اس کے لئے ثواب کا موجب ہوتا ہے۔صحیح مسلم کی روایت میں اس فضیلت کی بایں الفاظ صراحت کی گئی ہے: إِنَّ لَكُمْ بِكُلِّ خُطُوَةٍ دَرَجَةً۔تمہارے لئے ہر قدم پر ایک درجہ ہے۔(مسلم - کتاب المساجد - باب فضل كثرة الخطا الى المساجد)