صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 683 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 683

صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ انہوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا فَقَالَ أَلَا رو پڑے۔ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے تَسْمَعُوْنَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ دیکھا تو وہ بھی روئے۔ آپ نے فرمایا: سنتے نہیں۔ اور وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا دیکھو اللہ آنکھ کے آنسو نکلنے سے عذاب نہیں دیتا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ وَإِنَّ نہ دل کے غمگین ہونے پر۔ بلکہ اس کی وجہ وجہ سے سزا الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَكَانَ دے گا یار تم کرے گا اور آپ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اور میت کو بھی اس کے گھر والوں کے اس پر عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَضْرِبُ فِيْهِ نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے اور حضرت بِالْعَصَا وَيَرْمِي بِالْحِجَارَةِ وَيَحْتِي عمر رضی اللہ عنہ اس بناء پر چھڑی سے مارا کرتے تھے بِالتُّرَابِ۔ او اور پتھر بھی پھینکتے تھے اور خاک بھی ڈالا کرتے تھے۔ الله تشريح : فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِي بكوا : حضرت عبد الرحمن بن عوف عبد الرحمن بن عوف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند کی تدفین کے وقت موجود تھے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو جاری دیکھ کر تعجب سے پوچھا تھا کہ آپ بھی اشکبار ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہؓ ۔ عبادہؓ کے واقعہ میں بھی وہ بھی وہ موجود تھے اور انہوں نے آپ کے آنسو بہنے پر تعجب نہیں کیا۔ اس سے بعض علماء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ واقعہ بعد کا ہے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کو علم ہو چکا تھا کہ آنسوؤں سے دردِ دل کا اظہار ممنوع نہیں۔ (فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۲۲۴) اس تقدم و تاخر کو ملحوظ رکھتے ہوئے باب ۴۴۴۳ یکے بعد دیگرے قائم کئے گئے ہیں ۔ بَاب ٤٥ : مَا يُنْهَى مِنَ النَّوْحِ وَالْبُكَاءِ وَالزَّجْرِ عَنْ ذَلِكَ بین کرنے اور رونے سے منع کرنا اور زور کے ساتھ روکنا ١٣٠٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۳۰۵ : محمد بن عبداللہ بن حوشب نے ہم سے بیان بْنِ حَوْشَبِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ کیا ، (کہا: ) عبدالوہاب (ثقفی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي کیا۔ انہوں نے کہا: ) یحی بن سعید (انصاری) نے عَمْرَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ ہم سے بیان کیا، کہا: عمرہ ( بنت عبدالرحمن ) نے مجھے عَنْهَا تَقُوْلُ لَمَّا جَاءَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ بتایا۔ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔