صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 682
البخاری جلد ۲ ۶۸۲ ٢٣ - كتاب الجنائز رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ ہمارے ربّ کو پسند ہواور ہم اے ابراہیم ! تیری جدائی سے یقینا غمگین ہیں۔لَمَحْزُولُونَ۔رَوَاهُ مُوسَى عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ موسى بن اسماعیل) نے سلیمان بن مغیرہ سے، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ سلیمان نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔رضی اللہ عنہ سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کی ہے۔شریح: إِنَّا بِكَ لَـ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ : دل کا غمگین ہونا اور آنسوؤں کا بہنا برا نہیں۔برا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضا و قدر کے ظاہر ہونے پر ناراض ہو۔وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سبق صحابہ کرام کو سکھایا۔بَابِ ٤ ٤ : الْبُكَاءُ عِنْدَ الْمَرِيضِ بیمار کے پاس رونا ١٣٠٤: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ عَنِ ابْنِ :۱۳۰۴ اصبغ (بن فرج) نے ہمیں بتایا۔ابن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو عَنْ سَعِيدِ وہب سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: عمرو ( بن بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حارث) نے مجھے بتایا۔انہوں نے سعید بن حارث بن عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَكَى انصاری سے سعید نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُوْدُهُ مَعَ عَبْدِ کو کسی بیماری کی شکایت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وسلم حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وَقَاص وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ بي الله وقاص اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو اپنے عَنْهُمْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي ساتھ لے کر ان کی بیمار پرسی کے لئے گئے۔جب ان غَاشِيَةِ أَهْلِهِ فَقَالَ قَدْ قَضَى قَالُوْا لَا يَا کے پاس پہنچے تو آپ نے ان کو گھر والوں کے جمگھٹ رَسُوْلَ اللهِ فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں پایا۔آپ نے فرمایا: کیا فوت ہو گئے ہیں؟