صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 679
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۷۹ ٢٣ - كتاب الجنائز مِنْهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ تُبَارِكَ لَكُمَا فِي پڑھی۔اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی لَيْلَتِكُمَا قَالَ سُفْيَانُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ کا ماجرا بیان کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْأَنْصَارِ فَرَأَيْتُ لَهُمَا تِسْعَةَ أَوْلَادِ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ رات تمہارے لیے مبارک کرے۔سفیان کہتے تھے : انصار میں سے ایک شخص كُلُّهُمْ قَدْ قَرَأَ الْقُرْآنَ۔اطرافه ٥٤٧٠ نے کہا: میں نے ان کے نو بچے دیکھے تھے۔سب قرآن کے قاری تھے۔تشریح : الظَّنُّ السَّيّ ءُ : بدظنی سے مراد یہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی ہے۔مَنْ لَّمْ يُظهِرُ حُزْنَهُ عِندَ المُصِيبَةِ غم ظاہر نہ کرنے کا مفہوم عنوان باب میں واضح کیا گیا ہے کہ لوگوں پر غم ظاہر کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہوئے اس کے حضور دعا کی جائے۔جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کی۔والدہ حضرت انس اور حضرت ابوطلحہ کا واقعہ اس قسم کے صبر کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ان کے صابرانہ ومتوکلانہ نمونہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو برکت دی۔فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأنصار: مشار الیہ راوی عبایہ بن رفاعہ انصاری ہیں۔اولاد سے مراد پوتے ہیں۔یعنی ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو، جس کے نو بچے تھے جو حافظ قرآن تھے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۲۱۹،۲۱۸) بَاب ٤٢ : الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولى صبر وہی ہے جو صدمے کے وقت شروع میں ہو وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نِعْمَ الْعِدْلانِ اور حضرت عمر نے کہا: دونوں طرف کے برابر کے بوجھ کیا وَنِعْمَ الْعِلاوَةُ الَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ ہی اچھے ہیں اور درمیان کا بوجھ بھی بہت ہی اچھا ہے۔وہ مُصِيبَةٌ قَالُوْا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ جنہیں مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں: ہم اللہ ہی کے ہیں اور أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَّبِّهِمْ ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَه ان کے رب کی خاص نوازشیں ہوں گی اور اس کی رحمت (البقرۃ: ۱۵۷-۱۵۸) ہوگی اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔