صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 680
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۸۰ ٢٣ - كتاب الجنائز وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: استقلال سے اور دعا کے وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ إِلَّا عَلَى ذریعے ( اللہ سے مدد مانگتے رہو۔اگر چہ یہ بات الْخَاشِعِينَ (البقرة: ٤٦)۔بڑی مشکل ہے مگر خشوع کرنے والوں پر نہیں۔١٣٠٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۱۳۰۲ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا :) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ غندر ( محمد بن جعفر ) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ نے کہا:) شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ثابت سے روایت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّبْرُ ہے۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى۔سے سنا۔وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپ اطرافه ١٢٥٢، ۱۲۸۳، ٧١٥٤۔نے فرمایا : صبر وہی ہے جو صدمہ کی ابتداء میں ہو۔تشريح الصَّبْرُ عِندَ الصَّدْمَةِ الأولى: انسان رونے پیٹنے کے بعد بھی صبر تو کرتاہی ہے لیکن یہ در حقیقت صبر نہیں۔یہ تو صرف تھک کر رہ جاتا ہے۔روایت نمبر ۱۳۰۲ کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۱۲۸۳۔نِعْمَ الْعِدَلَان وَنِعْمَ الْعِلَاوَةُ : عنوان باب میں حضرت عمر کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ حاکم نے اپنی مستدرک میں نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۲۲۰) مذکورہ بالا تمثیل سے یہ امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ انسان اس اونٹنی کی طرح ہے جو بھاری بوجھ اٹھا کر منزل مقصود کی طرف جارہی ہو۔اس کے بوجھ کو اعتدال میں رکھنے والی دو چیزیں ہیں۔ایک تو دونوں طرف کے وزنوں کا برابر ہونا اور دوسرے رحمت الہی ، جس سے اعمال کے نقائص کا تدارک ہوتا ہے۔ہدایت پانا یعنی عرفان حاصل ہونا۔یہ بطور اس درمیانی بوجھ کے ہے کہ جو نہ ہو تو انسان کے قدم اکھڑ جائیں۔قرآن کریم کی آیت سے حضرت عمرؓ کا مقصد واضح ہوتا ہے۔مصیبتوں میں جہاں انسان کو اپنے وفادارانہ سلوک کا علم ہوتا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ کے سلوک اور اس کی صفات ربانیہ کا بھی علم ہو جاتا ہے۔ابتلاء کے بغیر نہ اپنے ایمان کا صحیح علم ہوتا ہے اور نہ عرفان الہی حاصل ہوتا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی، پانچویں سوال کا جواب تیسر اعلم کا ذریعہ صفحه ۱۳۰ تا ۱۳۲ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۴ تا ۴۴۶