صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 678 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 678

صحيح البخاری جلد ۲ YZA بَاب ٤١ : مَنْ لَّمْ يُظْهِرْ حُرْتَهُ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ جو مصیبت کے وقت اپنے غم کا اظہار نہ کرے ٢٣ - كتاب الجنائز وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبِ الْقُرَظِيُّ اور محمد بن کعب قرظی نے کہا: جزع کے معنے بری الْجَزَعُ الْقَوْلُ السَّيِّئُ وَالظَّنُّ السَّيِّئ بات کہنا اور بدظنی کرنا اور حضرت یعقوب علیہ السلام وَقَالَ يَعْقُوْبُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِنَّمَا أَشْكُو نے کہا: میں اپنی بے قراری اور غم کا اللہ سے ہی شکوہ بَتِي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (يوسف: ۸۷)۔کرتا ہوں۔١٣٠١ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ١٣٠١ بشر بن حکم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَخْبَرَنَا بن عیینہ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ الحق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے بتایا کہ انہوں نے سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے يَقُوْلُ اشْتَكَى ابْنُ لِأَبِي طَلْحَةَ قَالَ تھے: حضرت ابوطلحہ کا ایک بیٹا بیمار ہوا۔کہا: پھر وہ فَمَاتَ وَأَبُو طَلْحَةَ خَارِجٌ فَلَمَّا رَأَتِ فوت ہو گیا۔حضرت ابوطلحہ باہر تھے۔جب ان کی امْرَأَتُهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ هَيَّات شَيْئًا وَنَحْتُهُ بیوی نے دیکھا کہ وہ فوت ہو گیا ہے تو انہوں نے کچھ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ فَلَمَّا جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ کھانا تیار کیا اور بچے کو گھر میں ایک طرف رکھ دیا۔قَالَ كَيْفَ الْغُلامُ قَالَتْ قَدْ هَدَأَتْ جب حضرت ابوطلحہ آئے تو انہوں نے پوچھا : لڑکا نَفْسُهُ وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدِ اسْتَرَاحَ کیسا ہے؟ تو ان کی بیوی نے جواب دیا: تک گیا ہے وَظَنَّ أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهَا صَادِقَةٌ قَالَ فَبَات اور میں امید کرتی ہوں کہ اس کو آرام ہو گیا ہوگا اور فَلَمَّا أَصْبَحَ اغْتَسَلَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ حضرت ابوطلحہ سمجھے کہ وہ سچ کہہ رہی ہے۔(حضرت يَخْرُجَ أَعْلَمَتْهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَصَلَّى مَعَ انسؓ کہتے تھے: (حضرت ابوطلحہ) نے رات بسر کی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَخْبَرَ اور صبح اٹھے تو انہوں نے غسل کیا۔جب وہ باہر جانے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ لگے تو ان کی بیوی نے انہیں بتایا کہ بچہ فوت ہو گیا