صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 674
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۷۴ باب ۳۷ : مَا يُنْهَى عَنِ الْحَلْقِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ مصیبت کے وقت بال منڈوانا منع ہے ٢٣ - كتاب الجنائز ١٢٩٦: وَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ۱۳۹۶ حکم بن موسیٰ نے کہا بھی بن حمزہ نے ہمیں حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ بتایا۔عبدالرحمن بن جابر سے مروی ہے کہ قاسم بن الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مخیرہ نے ان سے بیان کیا، کہا: حضرت ابو بردہ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بن البی موسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا۔کہتے بْنُ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ تھے: حضرت ابوموسی بیمار ہوئے اور ایسے بیمار ہوئے وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ که اُن پر غشی طاری ہوگئی۔ان کا سران کے گھر وَرَأْسُهُ فِي حَجْر امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ والوں میں سے ایک عورت کی گود میں تھا۔(وہ چیخ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ مار کر رونے لگی۔) حضرت ابو موسی اس کو کچھ نہ کہہ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ سکے۔جب ہوش سنبھالا تو انہوں نے کہا: میں اس اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ بیزار ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلانے الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ۔والی اور بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔تشریح : مَا يُنْهَى عَنِ الْحَلْقِ عِندَ الْمُصِيبَة : حادث موت کے وقت بال منڈوانے کی رسم زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔جو اب تک ہندوؤں میں موجود ہے۔وہ سر کے بال، داڑھی مونچھیں اور بدن کے بال منڈوا دیتے ہیں۔یہودی بھی سرمنڈوا کر بال مردے کے جسم یا اس کی قبر پر بکھیر دیتے تھے۔یہ رسم انہوں نے قدیم اقوام مشرکہ سے اخذ کی تھی اور وہ راکھ پر بیٹھ جاتے تھے اور سر پر راکھ ڈالتے اور ان میں سے بعض ہتھیاروں سے اپنے آپ کو زخمی کرتے تھے۔ان کے ہاں بال نوچنے، گریبان چاک کرنے ، ٹاٹ پہنے ، ننگے سر اور ننگے پاؤں چلنے کا بھی رواج تھا۔اسلام نے آ کر یہ سب رسوم مٹا کر بنی نوع انسان پر بڑا رحم فرمایا ہے۔