صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 673 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 673

صحيح البخاری جلد ۲ تی ہے ٢٣ - كتاب الجنائز ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرَفْعَةً ثُمَّ لَعَلَّكَ أَنْ میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے ( مکہ میں ) رہ جاؤں گا۔تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ آپ نے فرمایا: تم کبھی پیچھے نہیں رہو گے۔جو نیک کام بھی بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي کرو گے، تم اس کے ذریعہ سے درجہ اور بلندی میں بڑھو هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ گے۔مزید برآں امید ہے کہ تم پیچھے رکھے جاؤ گے تا لَكِنِ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ حَوْلَةَ يَرْنِي لَهُ تمہارے ذریعہ بہت سی قو میں نفع حاصل کریں اور بعض کو رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تمہارے ذریعہ نقصان پہنچے۔اے میرے اللہ ! میرے ساتھیوں کے لئے ان کی ہجرت پوری کر اور ان کو ان کی مَّاتَ بِمَكَّةَ۔ایڑیوں کے بل نہ لوٹائیو۔لیکن بیچارے سعد بن خولہ ان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افسوس ہی کیا کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے۔: تشریح : رِثَاءُ النَّبِيِّ عن سَعْدِ بْنَ حَولَة: نود منع ہے جیساباب نمبر۳۳تا باب نمبر۳۹ کی روایات ہوا، سے نیز امام احمد بن حنبل ، ابن ماجہ، حاکم اور ابن ابی شیبہ کی روایتوں سے واضح ہوتا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۲۱۰) اور یہاں رفاء بمعنی افسوس کرنا ہے۔کہتے ہیں: رَني لَهُ یعنی رَقَ وَتَوَجَّعَ (السان العرب تحت لفظ رٹی غمگین اور دردمند با غمگین ہونا، افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرنا نہ صرف یہ کہ ممنوع نہیں بلکہ ضروری ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص مہاجرین میں سے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع میں شریک تھے۔بیماری میں وہ ڈرے کہ کہیں مکہ میں فوت نہ ہو جائیں اور ان کی ہجرت نا تمام رہ جائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور انہیں تسلی دی کہ بیماری کی وجہ سے اگر ان کو مکہ میں پیچھے ٹھہر نا پڑا تو نیکی کرنے کے مواقع انسان کے لئے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں جو اس کی ترقی کا موجب ہو سکتے ہیں۔إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ مومن تو کہیں بھی پیچھے نہیں رہتا۔لَعَلَّكَ اَنْ تُخَلَّفَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی خارق عادت طور پر پوری ہوئی۔حضرت سعد بن ابی وقاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دیر تک زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عراق اور ایران میں حیرت انگیز فتوحات سے سرفراز فرمایا۔حضرت سعد بن خولہ بھی مہاجرین میں سے تھے جو اپنے وطن مکہ میں فوت ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اس وفات پر افسوس کیا کرتے تھے۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنا واقعہ بیان کر کے حضرت سعد بن خولہ کا بھی ضمنا ذ کر کیا۔