صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 672
حيح البخاری جلد ۲ تشریح: ٢٣ - كتاب الجنائز لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ : یعنی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔یہ فقرہ بیزاری اور بے تعلقی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے تا لوگ جاہلیت کی رسم سے باز آجائیں۔اس تعلق میں باب ۳۰ اور باب ۳۹ کی تشریح بھی دیکھئے۔رَضِيَ باب ٣٦ : رِثَاءُ النَّبِيِّ ﷺ سَعْدَ بْنَ خَوْلَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت سعد بن خولہ کے مرنے پر افسوس کرنا بي ۱۲۹٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۲۹۵ عبد اللہ بن یوسف ( تنیسی ) نے ہم سے بیان عبداللہ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَن ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کیا، کہا : ( مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيْهِ ہے، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، عامر نے اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ اپنے باپ حضرت سعد ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُوْدُنِي عَامَ انہوں نے کہا: رسول اللہ ہے جس سال حجتہ الوداع ہوا، اشْتَدَّ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعِ میری بیمار پرسی کے لئے آیا کرتے تھے۔کیونکہ میری بیماری فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا بڑھاتی تھی۔میں نے کہا: میری بیماری آخری حد تک پہنچ گئی ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ أَفَأَتَصَدَّقُ ہے اور میں مالدار ہوں اور سوائے (میری ) ایک لڑکی کے بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا فَقُلْتُ بِالشَّطْرِ اور کوئی میرا وارث نہیں۔کیا میں دو تہائی مال صدقہ کر فَقَالَ لَا ثُمَّ قَالَ الثَّلُثُ وَالثَّلُثُ كَبِيرٌ دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔میں نے کہا: تو آدھا ؟ آپ أَوْ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ نے فرمایا: نہیں۔پھر آپ نے فرمایا: تہائی بلکہ تہائی بھی بڑا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةٌ يَتَكَفَّفُوْنَ ہے یا فرمایا: بہت ہے اور یہ کہ تم اپنے وارثوں کو مالدار النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا چھوڑو، بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو محتاج چھوڑ جاؤ، لوگوں وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ کے سامنے وہ ہاتھ پھیلاتے پھریں اور جو تم ایسا خرچ کرو فِي فِي امْرَأَتِكَ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ گے کہ جس سے اللہ کی رضا مندی چاہتے ہو تو ضرور ہی اس أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّكَ لَنْ تمہیں ثواب دیا جائے گا۔یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جو تم تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔میں نے کہا: یا رسول اللہ !