صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 671
صحيح البخاری جلد ۲ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ۔ ۶۷۱ ٢٣ - كتاب الجنائز روتی ہے؟ یا فرمایا: مت رو۔ فرشتے اپنے پروں سے ان پر اطرافه: ١٢٤٤، ٢٨١٦، ٤٠٨٠۔ سایہ کئے رہے یہاں تک کہ ان کا جنازہ اٹھایا گیا۔ تشریح روایت نمبر ۳ ۱۲۹ سے نہ صرف بین کرنے بلکہ چلانے کی بھی منعت واضح ہوتی ہے۔ اسی طرف توجہ دلانے کے لئے امام بخاری نے باب ۳۴ کا کوئی نیا عنوان نہیں قائم ب ۳۴ کا کوئی نیا عنوان نہیں قائم کیا۔ کیونکہ دونوں ابواب کا ایک ہی مضمون ۔ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۰۶) إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ بِبُكَاءِ اَهْلِهِ عَلَيْهِ : اس بارہ میں عبد ان کی روایت نمبر ۱۲۸۶ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں : إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ اور دوسری روایت نمبر ۱۲۹۲ ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں : الْمَيِّتُ يُعَذِّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ اور آدم بن ابی ایاس نے بروایت شعبه ( نمبر ۱۳۹۲) یہ الفاظ نقل کئے ہیں: الْمَيِّتُ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ۔ روایت نمبر ۱۲۹۰ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری نے بحوالہ حضرت عمر یہ الفاظ عمرؓ یہ الفاظ نقل کئے ہیں: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ۔ امام بخاری نے مختلف سندوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی تعیین کرنے کی جو کوشش کی ہے اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عمرہ کی روایت نمبر ۱۲۸۹ سے جو بحوالہ حضرت عائشہ منقول ہے، معلوم ہوتا ہے کہ قبر میں عذار ا عذاب دیئے جانے کا واقعہ مخصوص ہے۔ اس خیال کو دور کرنے کے لئے مختلف سندوں سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا اور باب نمبر ۳۳ کے عنوان میں امام موصوف نے اس امر کی وضاحت کر دی ہے کہ کس قسم کی گریہ وزاری ممنوع ہے۔ باب ۳۴ میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ باب ٣٥ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ جنہوں نے اپنے گریبان پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں ١٢٩٤ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۳۹۴ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ (ثوری) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) زبید یامی عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی ) سے، ابراہیم نے عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّطَمَ الْحُدُوْدَ وَشَقَّ اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں جو اپنا منہ پیٹے اور گریبان الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ۔ اطرافه: ۱۲۹۷، ۱۲۹۸، 3519۔ پھاڑے اور جاہلیت کی چیخ و پکار کرے۔