صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 670 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 670

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۷۰ ٢٣ - كتاب الجنائز حضرت جابر کی چچی نے احد میں اپنے بھائی کے شہید ہونے پر بین کئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا۔ان کا یہ استدلال صحیح نہیں۔احد کے واقعات کی بناء پر ہی آپ نے بین کرنے سے منع فرمایا تھا۔تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۲۰۶۔یہی اختلاف مد نظر رکھ کر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔مَا لَمْ يَكُنْ نَقَع اَوْ لَقْلَقَةٌ : حضرت عمر کا یہ حوالہ عنوان باب میں دیا گیا ہے جو حضرت خالد بن ولیڈ کی وفات سے تعلق رکھتا ہے۔ان کی چازاد بہنیں رونے لگیں۔کسی نے حضرت عمرؓ سے کہا: ان کو روک دیں تو انہوں نے کہا: جب تک پیٹنے اور بال نوچنے اور سر پر خاک ڈالنے کی نوبت نہ آئے منع کرنے کی ضرورت نہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۲۰۶) نفع اور لَقْلَقَةٌ کی تشریح اس لئے کی گئی ہے کہ اہل لغت نے نفع کے معنے گریبان پھاڑنے اور لَقْلَقَةٌ کے معنے نوحہ کی آواز دہرانے کے بھی کئے ہیں۔الفاظ مَا يُكْرَهُ مِنَ النِّيَاحَةِ سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ نوحہ کی کراہیت کس قسم کی ہے۔آیا کراہیت تحریم ہے یا مطلق کراہیت۔باب ٣٤ ۱۲۹۳ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۱۲۹۳ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ (انہوں نے کہا: ) سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ الله ( انہوں نے کہا: محمد ) بن منکدر نے ہمیں بتایا۔کہا: میں نے جيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ قَدْ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: عَنْهُمَا قَالَ قَالَ مُثْلَ بِهِ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ میرے والد احد کے دن لائے گئے۔ان کے ناک کان کاٹ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُحِيَ ڈالے گئے تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيْدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ رکھے گئے اور انہیں ایک کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا۔میں (لاش فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ ذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْهُ کے پاس گیا۔چاہتا تھا کہ اس سے کپڑا ہٹاؤں۔لوگوں نے فَنَهَانِي قَوْمِي فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی مجھے منع کیا۔پھر میں (لاش کے پاس) گیا۔اس سے کپڑا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ بٹانے لگا تو لوگوں نے مجھے منع کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَائِحَةٍ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالُوا ابْنَةُ نے حکم دیا اور لاش اٹھائی گئی۔اتنے میں آپ نے ایک چلانے عَمْرِو أَوْ أُخْتُ عَمْرِو قَالَ فَلِمَ تَبْكِي والی کی آوازسنی تو آپ نے فرمایا: یہ کون عورت ہے؟ لوگوں أَوْ لَا تَبْكِي فَمَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ نے کہا: عمر کی بیٹی۔یا کہا عمر کی بہن تو آپ نے فرمایا: کیوں