صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 669
صحيح البخاری جلد ۲ ٦٦٩ ٢٣ - كتاب الجنائز الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ علی نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِنَّ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبِ عَلَى أَحَدٍ آپ فرماتے تھے: مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی اور پر مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں۔ جس نے مجھ پر جان مِنَ النَّارِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ پھر آگ میں ہی اپنا ٹھکانا وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مَنْ نَيْحَ عَلَيْهِ يُعَذِّبُ بِمَا بنائے (اور ) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ نِيْحَ عَلَيْهِ۔ آپ فرماتے تھے: جس پر بین کئے جاتے ہیں اس کو ان بینوں کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ ۱۲۹۲: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ ۱۲۹۲ عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: میرے باپ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے،شعبہ نے قتادہ سے، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ قتادہ نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابن أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى عمر سے ، حضرت ابن عمر نے اپنے باپ سے، انہوں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذِّبُ فِي نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ۔ میت کو بوجہ ان بینوں کے جو اس پر کئے گئے اس کی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ تَابَعَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عبدان کی طرح عبدالاعلیٰ نے بھی یہی روایت بیان کی ہے۔ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةً وَقَالَ (انہوں نے کہا:) یزید بن زریع نے ہم سے بیان کیا، (کہا) آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ الْمَيِّتُ يُعَذِّبُ بِبُكَاءِ سعيد ( بن ابی عروبہ ) نے ہم سے بیان کیا، ( کہا ) قتادہ نے ہمیں بتایا۔ (یعنی سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہوئے ) الْحَيِّ عَلَيْهِ۔ اطرافه: ۱۲۸۷، ۱۲۹۰۔ آدم ( ابن ابی ایاس) نے شعبہ سے یوں روایت کی ۔ مردوں کو زندوں کے ان پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ : ہے۔ ابن قدامہ نے امام احمد بن حنبل سے یہ روایت کی ہے کہ نوحہ علی الاطلاق ممنوع نہیں بلکہ بعض وقت جائز ہے اور ان کی طرف سے دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ