صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 668 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 668

صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز ہے اور صبر کی تلقین کی ہے وہاں یہ سبق بھی دیا ہے کہ اس ممانعت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ انسان جذبات شفقت و رحمت سے خالی ہو جائے۔اسلام کی تعلیم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ دونوں افراط و تفریط سے پاک اور حد اعتدال پر واقع ہیں۔إِنَّ ابْنَا لِى قُبِضَ : اس روایت میں یہ جو آیا ہے کہ ان ابنا لى قُبِضَ اس کا مفہومِ قَارَبَ أَنْ يُقْبِضَ یعنی مرنے کے قریب ہے۔جن روایتوں میں امامہ کی بیماری کا ذکر ہے۔اس میں قبض کی جگہ اُسْتَعِرْ بِامَامَةَ ہے۔یعنی آپ کو خبر دی گئی کہ امامہ جان کنی کی حالت میں ہے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۲۰۰) صلى الله شَهِدْنَا بِنْتَا لِرَسُولِ اللهِ ل : روایت نمبر ۱۲۸۵ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جس بیٹی کے فوت ہو جانے کا ذکر ہے وہ حضرت ام کلثوم ہیں جو حضرت عثمان کی بیوی تھیں۔مزید تشریح کے لئے دیکھئے کتاب الجنائز باب نمبر اے۔یہ روایت اور اس سے انگلی روائتیں نمبر ۶ ۱۲۸ تا ۱۲۹۰ یہ بتانے کے لئے لائی گئی ہیں کہ رحمت و شفقت کے جذبہ کے ماتحت آنسوؤں کا بے اختیار جاری ہو جانا قابل اعتراض نہیں۔بے قراری اور جزع و فزع کا اظہار معیوب اور منع ہے۔روایت نمبر ۱۲۹ لاکر حضرت عائشہ کی رائے مندرجہ روایت نمبر ۱۳۸۹ کی تائید کی ہے کہ عذاب ان کا فروں کو ہوتا ہے جن کے ہاں رونا پیٹنا بطور رسم ورواج کے ہو۔جیسے یہودی اور مشرکین کے ہاں تھا۔آنسو بہنے کی وجہ سے کسی کو سزا نہیں ملتی۔حضرت ابن عباس نے آیت هُوَ أَضْحَكَ وَاَبُكَى (النجم: ۴۴) { اور یہ کہ وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رُلاتا بھی ہے۔} کا حوالہ دے کر حضرت عائشہ کی روایت کی تائید کی ہے کہ رونا ہنسنے کی طرح ایک طبعی امر ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر پیدا کیا ہے۔بشرطیکہ انسان سے برمحل صادر ہو۔کفار کی فریاد و بکا پر اسے محمول کرنا درست نہیں۔(روایت نمبر ۱۲۸۸) روایت نمبر ۱۲۸۹ میں یہودی عورت کے واقعہ کا حوالہ دے کر واضح کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا تعلق ایک مخصوص میت کے عذاب سے ہے، عام نہیں۔امام بخاری نے ترتیب روایات سے مسئلہ معنونہ کی اصلیت واضح کر دی ہے۔فَجَزَاهُ اللَّهُ عَنَّا أَحْسَنَ الْجَزَاءِ باب ٣٣ : مَا يُكْرَهُ مِنَ النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ میت پر بین کرنا جو مکروہ ہے وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْهُنَّ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں ابوسلیمان ( خالد بن يَبْكِيْنَ عَلَى أَبِي سُلَيْمَانَ مَا لَمْ يَكُنْ ولید) پر رونے دو۔جب تک کہ وہ اپنے سروں پر ) خاک تَقْعَ أَوْ لَقْلَقَةٌ وَالنَّقْعُ التُّرَابُ عَلَی نہ ڈالنے لگیں۔یا نالہ وفریاد نہ کی جائے۔نقع عربی زبان الرَّأْسِ وَاللَّقْلَقَةُ الصَّوْتُ۔میں سر پر مٹی ڈالنے کو کہتے ہیں اور نقلقہ چلانے کو۔۱۲۹۱ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۱۲۹۱ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) سعید سَعِيْدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيْعَةَ عَنِ بن عبید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے علی بن ربیعہ سے،