صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 667
صحيح البخاری جلد ۲ بِبُكَاءِ الْحَيِّ۔ اطرافه: ۱۲۸۷، ۱۲۹۲۔ -------- ۶۶۷ صلى الله ٢٣ - كتاب الجنائز کیا تمہیں علم نہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : میت کو بھی زندہ کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ تشريح : إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهِ: تشریح باب میں بتایاجاچکاہے کہ یہودی اور عربوں میں میت پر رونے کی کیا رسم تھی۔ اسی کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے اور اگر مرنے والا رونے والے کے لئے وصیت کر جائے جیسا کہ عرب کیا کرتے تھے وہ بھی سزا کا مستحق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُوْا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا التحریم: ۷ ) اپنے آپ کو اور اپنے اہل بیت کو آگ سے بچاؤ۔ اس آیت میں تمام مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ : رار دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے آپ کو ہی بلکہ اپنے افراد خاندان کو بھی نار جہنم سے بچائے۔ ہر شخص نگہبان ہے اور جواب دہ ہے اور اگر خاندان میں رونے پیٹنے کی رسم نہ ہو تو پھر مرنے والے کو کوئی سزا نہیں مگر رسم ہونے کی حالت میں ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اس کا تدارک کرے۔ جیسا کہ بعض وصیت کر دیتے ہیں کہ ان کے مرنے پر رویا نہ جائے۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ کے استدلال کی تائید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول : لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظلما جو نقل کیا ہے اس کی وضاحت کے لئے دیکھئے روایت نمبر ۱۲۸۶، ۱۳۸۹۔ جس خاندان میں رونے اور بین کرنے کی رسم موجود ہو اس کے سارے افراد جواب دہ ہیں، اگر اصلاح نہیں کرتے ۔ اس لئے کہ وہ اس رسم کے جاری رہنے میں معاون اور مؤید ہیں۔ روایت نمبر ۱۲۸۴ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے پیغام بھیجنے کا جو ذکر ہے اس بارے میں دو طرح کی روایتیں ہیں۔ ایک میں صبی (یعنی بچہ ) مروی ہے۔ یہ حسن بن علی بن ابی طالب ہیں اور پیغام بھیجنے والی حضرت فاطمہ نہیں اور دوسری میں صَبِيَّةٌ (یعنی بچی) ہے۔ یہ حضرت زینب کی بیٹی حضر حضرت امامہ تھیں میں جو خطرناک بیمار ہوگئی تھیں ۔ ان سے متعلق بھی بعض روایتوں میں یہ الفاظ آتے ہیں : نَفَسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنّ (مسند احمد بن حنبل جزء ۵ صفحہ ۲۰۷۔ روایت نمبر ۲۱۲۹۲) { اس کا سانس اکھڑ نے لگا اور اس طرح آواز آنے لگی جیسے کسی پرانی مشک کی ۔ اور یہ کہ انہیں دیکھ کر آپ کے آنسو بہنے لگے ۔ حضرت امامہ کی بابت مروی ہے کہ اس کا سانس اکھڑ نے لگا اور اس طرح آواز آنے لگی جیسے کسی مشک کی ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہیں اور حضرت علی سے ان کا نکاح ہوا۔ بعض نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ وہ شفا پا گئی تھیں۔ علامہ ابن حجر کی تحقیق میں وہ بچی حضرت امامہ تھیں جو فوت ہوئیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۹۹ تا ۲۰۰) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دفعہ بلانے پر جو نہیں گئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صحابہ سے ایک مشورہ میں مشغول تھے۔ آپ نے یہ دیکھا کہ لوگ مشورہ کے لئے جمع ہیں اور مشورہ نا تمام چھوڑ نا مناسب نہیں۔ اس لئے اپنی بیٹی کو صبر کی تلقین فرمائی لیکن جب آپ کی صاحبزادی بچے کی نازک حالت دیکھ کر گھبرا گئیں اور قسم دے کر بلا بھیجا تو آپ گئے۔ آنسوؤں کے جاری ہونے سے ظاہر ہے کہ آپ کیسے رحیم تھے اور آپ کا دل کیسا رقیق رقیق تھا۔ امام بخاری نے اس واقعہ سے ایک لطیف استدلال کیا ہے اور وہ یہ کہ شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں میت پر نوحہ کرنے سے منع فرمایا