صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 666 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 666

صحيح البخاری جلد ۲ ٦٦٦ ٢٣ - كتاب الجنائز وَأَبْكَى (النجم: ٤٤) قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں وَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا که بخدا حضرت ابن عباس کی یہ بات سن کر شَيْئًا ۔ اطرافه: ۱۲۸۹، ۳۹۷۸۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ نہیں کہا۔ ۱۲۸۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۲۸۹: عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ کیا ، (کہا:) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابی بکر ( بن محمد بن عمر و بن حزم ) سے عبداللہ نے اپنے والد أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی کہ عمرہ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے انہیں بتایا کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سے سنا۔ وہ کہتی تھیں : رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يَبْكِي صلى الله علیہ وسلم تو ایک یہودی عورت کے پاس سے عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَبْكُوْنَ عَلَيْهَا گزرے تھے۔ جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: یہ تو اس پر رورہے ہیں اور اس کی حالت یہ وَإِنَّهَا لَتُعَذِّبُ فِي قَبْرِهَا ۔ اطرافه: ۱۲۸۸، ۳۹۷۸ ہے کہ اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ ۱۲۹۰: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۱۲۹۰: اسماعیل بن خلیل نے ہم سے بیان کیا کہ خَلِيْلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو علی بن مسہر نے ہم سے بیان کیا ۔ ( انہوں نے کہا : ) إِسْحَاقَ وَهْوَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ابوالحق شیبانی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو بردہ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ لَمَّا أُصِيْبَ عُمَرُ رَضِيَ ہے ، ابو بردہ نے اپنے باپ (حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ) اللهُ عَنْهُ جَعَلَ صُهَيْبٌ يَقُوْلُ وَا أَخَاهُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب حضرت عمر فَقَالَ عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو حضرت صہیب رونے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ لگے ۔ ہائے بھائی ہائے بھائی تو حضرت عمر نے کہا: