صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 665 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 665

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۶۵ ٢٣ - كتاب الجنائز فَإِذَا صُهَيْبٌ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ادْعُهُ لِي (حضرت عمر ) کو بتایا تو انہوں نے کہا: ان کو میرے پاس فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ ارْتَحِلْ بلا لاؤ۔ میں حضرت صہیب کے پاس گیا اور میں نے کہا: فَالْحَقِّ بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِيْنَ فَلَمَّا أُصِيْبَ چلئے امیر المؤمنین سے ملئے۔ جب حضرت حضرت عمر عم زخمی ہوئے عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي يَقُوْلُ وَا تو حضرت صہیب روتے ہوئے ان کے پاس آئے اور یہ أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی۔ ہائے میرے دوست ۔ عَنْهُ يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: صہیب ! کیا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ آپ مجھ پر روتے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ بِبَعْضٍ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ۔ فرماتے تھے: اہل میت کے بعض قسم کے رونے کی وجہ اطرافه: ۱۲۹۰، ۱۲۹۲ سے میت کو بھی عذاب ہوتا ہے۔ ۱۲۸۸ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ ۱۲۸۸: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: عَنْهُمَا فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا تذکرہ کیا تو فَقَالَتْ رَحِمَ اللهُ عُمَرَ وَاللهِ مَا حَدَّثَ انہوں نے کہا: اللہ حضرت عمرؓ پر رحم کرے۔ اللہ کی قسم ! رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں بیان کیا تھا کہ اللهَ لَيُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ اللہ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عذاب دیتا ہے بلکہ رس ہے بلکہ رسول الله علی نے یہ فرمایا تھا کہ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا کافر کے گھر والے جب اس پر روتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَقَالَتْ حَسْبُكُمُ کا فر کو اور زیادہ عذاب دیتا ہے اور کہنے لگیں: تمہارے الْقُرْآنُ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى لئے قرآن کافی ہے: کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری (فاطر: ۱۹) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ کا بوجھ نہیں اٹھائے گی یہ سن کر حضرت ابن عباس عَنْهُمَا عِنْدَ ذَلِكَ وَاللهُ هُوَ أَضْحَكَ رضی اللہ عنہما نے کہا: (یہ جو آیت ہے کہ ) وہی มี صلى الله