صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 664 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 664

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۶۴ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٢٨٦ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۱۲۸۶ عبدان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) عبد اللہ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْن أَبِي مُلَيْكَةَ کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا۔کہتے تھے : عبداللہ بن قَالَ تُوُفِّيَتْ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عبد الله بن ابی ملیکہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: بِمَكَّةَ وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا وَحَضَرَهَا ابْنُ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی مکہ میں فوت ہوگئی اور ہم اس کے جنازے میں شریک ہونے کے لئے عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ آئے۔حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا أَوْ قَالَ جَلَسْتُ بھی اس کے جنازے میں شریک ہوئے اور میں ان رَضِيَ إِلَى أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا یا کہا: ان دونوں میں سے إِلَى جَنْبِي فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ایک کے پاس بیٹھا تھا۔اتنے میں ایک اور شخص آیا اور وہ اللَّهُ عَنْهُمَا لِعَمْرِو بْن عُثْمَانَ أَلَا میرے پاس بیٹھ گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی نے حضرت عمرو بن عثمان سے کہا: کیا آپ رونے سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذِّبُ (عورتوں کو ) منع نہیں کرتے ؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ۔علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو بھی اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔:۱۲۸۷: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاس رَضِيَ :۱۲۸۷ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللَّهُ عَنْهُمَا قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللهُ عَنْهُ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی کچھ ایسا ہی کہا کرتے تھے۔پھر يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ ساتھ مکہ سے واپس آیا۔یہاں تک کہ ہم بیداء میں پہنچے تو مَّكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ کیا دیکھتے ہیں کہ چند سوار بول کے سائے میں بیٹھے ہیں بِرَكْبِ تَحْتَ ظِلَّ سَمُرَةٍ فَقَالَ اذْهَبْ تو انہوں نے مجھ سے کہا: جاؤ دیکھو یہ سوار کون ہیں؟ کہتے فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ قَالَ فَنَظَرْتُ تھے میں نے دیکھا تو وہ حضرت صہیب ہیں۔میں نے