صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 663
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ قَالَ حضرت زید بن ثابت اور کئی آدمی تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حَسِبْتُهُ أَنَّهُ قَالَ كَأَنَّهَا شَنِّ فَفَاضَتْ کے پاس بچہ اٹھا کر لایا گیا اور وہ دم توڑ رہا تھا اور ایسی آواز عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا هَذَا آرہی تھی) عثمان کہتے تھے میرا خیال ہے اسامہ نے کہا: جیسے فَقَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوْبِ پرانی مشک ( ٹھکرانے سے آواز دیتی ہے۔ ) آپ کے آنسو عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ بہنے لگے۔ حضرت سعد نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے؟ آپ الرُّحَمَاءَ۔ نے جواب دیا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور اللہ بھی اپنے بندوں میں سے اُنہی پر رحم کرتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔ اطرافه ٥٦٥٥ ، ٦٦٠٢، ٦٦٥٥، ٧٣٧٧، ٧٤٤٨۔ ١٢٨٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۲۸۵: عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ کیا، کہا: ) ابو عامر ( عقدی ) نے ہم سے بیان کیا، سُلَيْمَانَ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيّ عَنْ أَنَسِ (کہا:) فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْنَا بِلال بن علی سے، ہلال نے حضرت انس بن مالک بِنْتَا لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے: ہم رسول قَالَ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اللهصلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے ( جنازہ) میں موجود وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ قَالَ فَرَأَيْتُ تھے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صل اللہ علیہ د علیه و سلم قبر عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ قَالَ فَقَالَ هَلْ مِنْكُمْ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ کہا: میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ کہتے تھے: رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ أَبُو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص ہے جو آج طَلْحَةَ أَنَا قَالَ فَانْزِلْ قَالَ فَنَزَلَ فِي رات اپنی بیوی کے پاس نہ گیا ہو۔ حضرت ابوطلحہ نے قَبْرِهَا ۔ اطرافه: ١٣٤٢ کہا: میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: اترو۔ کہا: تو وہ ان کی قبر میں اترے۔