صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 662
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۶۲ ٢٣ - كتاب الجنائز كَقَوْلِهِ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ ذُنُوْبًا إِلَى اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور وہ رونا حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ (فاطر: ۱۹) وَمَا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر کوئی بوجھ يُرَخَصُ مِنَ الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ وَقَالَ اٹھانے والی جان دوسرے کو بوجھ اٹھانے کے لئے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لَا تُقْتَلُ بلائے گی تو اس بوجھ سے کچھ بھی نہیں اٹھایا جائے گا نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ اور بغیر بین کرنے کے جو رونے کی اجازت ہے اور الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا وَذَلِكَ لِأَنَّهُ أَوَّلُ فِى صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نفس بھی ناحق قتل کیا جاتا ہے تو اس کے خون کے وبال کا کچھ حصہ آدم کے مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔پہلے بیٹے کے ذمہ بھی ہوتا ہے اور یہ اس لئے کہ وہی تو پہلا شخص ہے جس نے قتل کی رسم جاری کی۔١٢٨٤ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ وَمُحَمَّدٌ :۱۲۸۴ عبدان اور محمد بن مقاتل ) نے ہم سے بیان قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ کیا۔ان دونوں نے کہا: عبداللہ بن مبارک ) نے ہم سے سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي بیان کیا۔انہوں نے کہا: عاصم بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔أَسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ ابو عثمان ( عبد الرحمن نہدی) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: أَرْسَلَتْ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا، کہا: وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنَا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا في صلى اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میرا بچہ فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلامَ وَيَقُوْلُ إِنَّ لِلَّهِ حالتِ نزع میں ہے، ہمارے پاس آئیں تو آپ نے کہلا مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلِّ عِنْدَهُ بِأَجَلِ بھیجا اور فرمایا: اللہ ہی کا ہے جو لے لے اور اسی کا ہے جو مُسَمًّى فَلْتَصْبِرُ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ عنایت کرے اور ہر بات کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ ہے۔اس لئے تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہو۔سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ انہوں نے پھر آپ کو بلا بھیجا اور آپ کو قتم دی کہ ان کے بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتِ وَرِجَالٌ پاس ضرور آئیں۔آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن عباده، حضرت معاذ بن جبل حضرت ابی بن کعب،