صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 661 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 661

صحيح البخاری جلد ۲ شریح : زِيَارَةُ الْقُبُوْر ٢٣ - كتاب الجنائز زِيَارَةُ الْقُبُورِ مسئلہ معنونہ سے متعلق بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔امام بخاری کو ان کی شروط کے مطابق کوئی قابل اعتماد روایت نہیں ملی جس سے قبروں پر جانا اور دعا کرنا ثابت ہوتا ہو۔روایت محولہ بالا سے اس مسئلہ کی مشروعیت اور جواز کا یقینی طور پر استدلال نہیں کیا جاسکتا سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صبر کرنے کی تلقین کی تھی۔قبر پر آنے جانے سے اس کو نہیں روکا۔ابراہیم نخعی ، ابن سیرین اور شعی عامر نے تو اسے مطلق مکروہ قرار دیا ہے۔(فتح الباری جز ۳ صفحہ ۱۹) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو وہ روایت نہیں پہنچی جو مسلم وغیرہ نے نقل کی ہے یعنی نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَرُوُرُوهَا۔(مسلم، كتاب الجنائز، باب استئذان النبي ربه في زيارة قبر امہ) میں نے تمہیں قبروں پر جانے سے منع کیا تھا اب تم جا سکتی ہو۔مسند ابوداؤد و نسائی میں یہ الفاظ ہیں : فَإِنَّهَا تُذَكَّرُ الْآخِرَةَ (نسائي۔كتاب الضحايا۔باب الاذن في ذلك) یہ ( قبریں ) آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔(ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب فی زیارة القبور) حاکم نے بھی اس کے ہم معنی ایک روایت حضرت عائشہ سے متعلق بیان کی ہے کہ وہ اپنے بھائی حضرت عبدالرحمن کی قبر پر گئیں۔لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے روکا تھا پھر اجازت دے دی تھی۔چونکہ قبر پرستی مشرکین عرب میں رائج تھی اور اندیشہ تھا کہ نئے ایمان لانے والے جو بھی تعلیم اسلام سے واقف نہیں ہوئے کہیں اس میں پھر مبتلا نہ ہوجائیں۔لیکن جب یہ تعلیم عام ہوگئی کہ قبر پرستی ممنوع ہے تو پھر قبروں پر جانے کی اجازت دے دی گئی کہ تا قبریں دیکھنے والوں کو اپنی موت یاد رہے۔قبروں کی زیارت جس صورت و شکل میں ممنوع ہے اس کا ذکر روایت نمبر ۱۲۷۸ میں گزر چکا ہے۔بَاب ۳۲ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ يُعَذِّبُ الْمَيِّتُ بِبَعْضٍ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ إِذَا كَانَ النَّوْحُ مِنْ سُنَّتِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے جبکہ رونا پیٹنا اس کے خاندان کی رسم ہو لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى قُوْا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيْكُمْ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اپنے آپ کو اور اپنے گھر نَارًا (التحريم: ٧) وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله والوں کو آگ سے بچاؤ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ فرمایا ہے: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ( ہر ایک رَعِيَّتِهِ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ سُنَّتِهِ فَهُوَ كَمَا کو اس کی رعیت سے متعلق پرسش ہوگی اور اگر اس قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَلَا تَزِرُ کے خاندان کی رسم نہ ہو تو اس کا رونا ایسا ہی ہے جیسا وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (فاطر: ١٩) وَهُوَ که حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی بوجھ وند