صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 660
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۶۰ ٢٣ - كتاب الجنائز ان تمام لغویات سے رہائی دی۔روایت نمبر ۱۲۸۱ میں خاوند کے مرنے پر سوگ کرنے کی مدت چار ماہ دس دن ہے۔احداد کے معنی زیب وزینت اور خوشبو وغیرہ سے رکنا۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۱۸۷) بیوی کے لئے دراصل یہ مدت عدت کی ہے۔جس میں مدت حمل اور عدم حمل سے متعلق پتہ لگ سکتا ہے۔اگر وہ شادی کرنا چاہے تو کم از کم چار ماہ دس دن تک انتظار کرے اور زیب وزینت میں احتیاط کرے۔انہی معنوں میں احداد کا ترجمہ لفظ سوگ سے کیا گیا ہے نہ رونے پیٹنے کے معنوں میں۔حضرت ابوسفیان حضرت ام حبیبہ کے والد تھے اور پہلے خاوند حضرت عبید اللہ کے حبشہ میں فوت ہونے پر نبی ہے نے حضرت ام حبیبہ سے شادی کر لی تھی اور انہوں نے مختلف ابتلاء کے زمانہ میں صحابہ کرام کے لیے نیک نمونہ قائم کیا۔بَاب ۳۱ : زِيَارَةُ الْقُبُوْرِ قبروں پر جانا ۱۲۸۳: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۲۸۳: آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْن مَالِكٍ رَضِيَ ) کہا : ( شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) ہمیں اللهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ثابت نے بتایا۔ثابت نے حضرت انس بن مالک وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرِ فَقَالَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي قَالَتْ إِلَيْكَ عَنِّى صلى اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے قریب سے گزرے فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي وَلَمْ تَعْرِفْهُ جو قبر کے پاس رور ہی تھی تو آپ نے فرمایا اللہ کو پر فَقِيْلَ لَهَا إِنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بناؤ اور صبر کرو۔وہ کہنے لگی: مجھ سے دور ہوتے میرے جیسی مصیبت نہیں پہنچی۔اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔اسے کہا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی اور فَأَتَتْ { بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِيْنَ فَقَالَتْ تمہیں لَمْ أَعْرِفُكَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ آپ کے پاس کوئی دربان نہ پایا۔کہنے لگی: میں نے الصَّدْمَةِ الْأُوْلَى۔آپ کو پہچانا نہیں تھا۔آپ نے فرمایا: صبر تو پہلے اطرافه ١٢٥٢، ۱۳۰۲، ٧١٥٤۔صدمہ کے وقت میں ہوتا ہے۔لفظ "باب فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۱۹۰) تر جمہ اس کے مطابق ہے۔