صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 659
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۵۹ ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۲۸۲: ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ :۱۲۸۲ پھر میں حضرت زینب بنت جحش کے بِنْتِ جَحْشٍ حِيْنَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا پاس گئی۔جب ان کے بھائی فوت ہو گئے تو فَدَعَتْ بِطِيْبٍ فَمَسَّتْ ثُمَّ قَالَتْ مَا انہوں نے خوشبو منگوائی اور (اسے) لگایا اور پھر لى بِالطَّيِّبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي کہنے لگیں: مجھے تو خوشبو کی حاجت نہیں مگر میں سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُوْلُ لَا يَحِلُّ ہوئے سنا کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور یوم لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ آخرت پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ میت پر عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَ إِلَّا عَلَى زَوْجِ تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر خاوند پر أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔اطرافه ٥٣٣٥۔چار ماہ دس دن۔تشریح : إِحْدَادُ الْمَرْاَةِ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والا اپنے گھر والوں کو وصیت کر جایا کرتا تھا کہ وہ اس کے لئے فلاں فلاں عرصہ تک روتے رہیں۔اس رواج کے مطابق عرب کا مشہور شاعر طرفہ بن العبدا اپنی بیوی کو بایں الفاظ وصیت کرتا ہے: إِذَا مِتُ فَانْعِيْنِي بِمَا أَنَا أَهْلُهُ وَشُقِى عَلَى الْجَيْبَ يَا إِبْنَةَ مَعْبَدٍ (فتح الباری تشریح باب ۳۲ جز ۳۶ صفحه ۱۹۷) یعنی اے معبد کی بیٹی ! جب میں مرجاؤں تو جن باتوں کا میں اہل ہوں گا ان کا ذکر کر کے میرا سوگ کرنا اور میرے مرنے پر گریبان چاک کرنا۔اکثر عورتیں سال بھر میں کرتی رہتی تھیں۔ہندوستان کی مشرک بلکہ بعض غیر مشرک اقوام میں یہی رسم اب تک موجود ہے۔ان کا گھر مدتوں ماتم کدہ بنا رہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان خصوصا جنس لطیف پر بہت بڑا احسان فرمایا کہ رونے پیٹنے اور بین کرنے سے روک دیا اور فرمایا: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ( نمبر ۱۲۹۴) وہ ہم میں سے نہیں جس نے منہ پیٹا اور گریبان پھاڑا اور جاہلیت کی چیخ و پکار کی اور آپ نے صالقہ یعنی بین کرنے والی عورتوں سے بیزاری اور مقاطعہ کا اعلان فرمایا۔(مسلم، کتاب الايمان، باب تحريم ضرب الخدود وشق الجيوب) یہودیوں میں اجرت پر بین کرنے والیاں مہیا کی جاتی تھیں جو جنازے کے ساتھ ساتھ بین کرتی جاتی تھیں نیز موسیقار بھی بلوائے جاتے تھے اور ان کے درمیان یہ بھی رسم تھی کہ مرنے پر رشتہ دار اپنا اوپر کا چونا پھاڑ ڈالتے اور دوسرے لوگ صرف ایک بالشت عربوں میں بھی گریبان چاک کرنے کی رسم پائی جاتی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے