صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 657 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 657

صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز تشریح : اتِّبَاعُ النِّسَاءِ الْجَنَازَةَ : فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہ آیا عورتوں کے لئے یہ مانعت بطور تحریم ہے یا بطور کراہیت۔ایک فریق نے اسے مطلق حرام قرار دیا ہے اور ایک نے مکروہ۔حضرت ام عطیہ کے الفاظ وَلَمْ يُعْزَمُ عَلَيْنَا سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ممانعت تاکیدی نہ تھی۔جمہور کا یہی مذہب ہے۔امام مالک نے عورتوں کے لئے جنازے کے ساتھ جانا جائز قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۸۵ ۱۸۲) امام بخاری نے اپنی رائے محفوظ رکھی ہے۔ابن ابی شیبہ، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت نقل کی ہے اور یہ معتبر ہے کہ حضرت عمر نے ایک عورت کو جنازہ کے ساتھ دیکھا اور اسے منع کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روکا۔فرمایا: اسے رہنے دو۔عورتوں کی عادت تھی کہ وہ جنازہ کے ساتھ روتی پیٹتی جایا کرتی تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنازہ کے ساتھ جانے سے روک دیا مگر دوسرے وقت میں ایک عورت کو جنازہ کے ساتھ کسی مصلحت کی وجہ سے رہنے دیا۔اس مسئلہ کا تعلق حالات کے ساتھ ہے۔یہی وجہ ہے کہ علماء نے مختلف حالات مد نظر رکھ کر کراہیت اور جواز کے فتوے دیئے ہیں۔باب ٣٠ : إِحْدَادُ الْمَرْأَةِ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا 5 عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا ۱۲۷۹ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ :۱۲۷۹ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا : ) بشر بن بْنُ الْمُفَضَّل حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ مفضل نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا: ) سلمہ بن عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ قَالَ تُوُفِّيَ ابْنُ عالقمہ نے ہمیں بتایا۔محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ لِأُمّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَمَّا كَانَ انہوں نے کہا: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا ایک الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ بیٹا فوت ہو گیا۔جب تیسرا دن ہوا تو انہوں نے زرد سَّحَتْ بِهِ وَقَالَتْ نُهِينَا أَنْ نُحِدَّ خوشبو منگوائی اور اپنے بدن پر لگائی اور کہنے لگیں: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہم خاوند کے سوا اور کسی پر تین أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ إِلَّا بِزَوْجِ دن سے زیادہ سوگ کریں۔اطرافه: ۳۱۳، ۱۲۷۸، 534۰، 5341، 5341، 5343۔۱۲۸۰ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۱۲۸۰ (عبداللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى قال بیان کیا، (کہا : ) سفیان بن عیینہ) نے ہم سے ر ابن ماجه۔كتاب الجنائز باب ماجاء في البكاء على الميت) (سنن نسائی، کتاب الجنائز باب الرخصة في البكاء على الميت (مصنف ابن ابی شیبه کتاب الجنائز، باب من رخص ان تكون المرأة مع الجنازة)