صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 656
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز لَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ قَالَ ہے۔ایسی حالت میں کہ آپ کو اس کی ضرورت تھی۔پھر إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ إِنَّمَا سَأَلْتُهُ باوجود اس کے تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگی ہے لِتَكُوْنَ كَفَنِي قَالَ سَهْل فَكَانَتْ اور تمہیں علم ہے کہ آپ سوال رڈ نہیں کیا کرتے۔اس نے جواب دیا: میں نے اللہ کی قسم اس لئے نہیں مانگی کہ اسے كَفَتَهُ۔پہنوں بلکہ اس لئے مانگی ہے کہ تا وہ میرا کفن ہو۔حضرت سہل نے کہا: چنانچہ وہ ( چادر ) اُن کا کفن ہوئی۔اطرافه ۲۰۹۳، ٥۸۱۰، ٦٠٣٦ تشريح۔مَنِ اسْتَعَدَّ الْكَفَنَ فَلَمْ يُنْكَرُ عَلَيْهِ: روایت نمبر ۷ ۱۲۷ میں جو واقعہ درج ہے۔اس سے عنوان باب اخذ کیا گیا ہے۔صحابہ نے اس کے مانگنے کو برا سمجھا۔لیکن یہ سن کر کہ وہ اس چادر کو بطور اپنے کفن کے استعمال کرے گا وہ خاموش ہو گئے اور کسی نے اعتراض نہیں کیا۔مانگنے والے کا نام نہیں بتایا گیا۔صحابہ کرام میں بہت سی خوبیاں تھیں اور عظیم الشان قربانیوں کی وجہ سے انہیں مقام عزت حاصل ہے۔اس قسم کی معمولی کمزوریوں کے ذکر میں نام عمد مخفی رکھا جاتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود اس کے کہ آپ کو ضرورت تھی وہ چادر اس سائل کو دے دی اور اس طرح يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ کی پاک مثال قائم کی۔(الحشر: ۱۰) { اور خود اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے باوجود اس کے کہ انہیں خود تنگی در پیش تھی۔} باب ۲۹: اتَّبَاعُ النِّسَاءِ الْجَنَائِرَ عورتوں کا جنازہ کے ساتھ جانا ۱۲۷۸: حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ بْنُ عُقْبَةَ :۱۲۷۸ قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أُمَ الْهُذَيْلِ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ ( حذاء) سے، خالد نے ام ہذیل (حفصہ بنت سیرین) نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ ام ہذیل نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : جنازوں کے ساتھ جانے سے عَلَيْنَا۔سے، ہم رو کی گئی تھیں مگر ہمیں تاکیدی حکم نہیں دیا گیا تھا۔اطرافه ۳۱۳، ۱۲۷۹، ٥٣٤۰، ٥٣٤، ٥٣٤٢، ٥٣٤٣۔فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں لفظ " الجنائز کی بجائے "الجنازة" ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۱۸۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔