صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 654
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۵۴ ٢٣ - كتاب الجنائز تشریح إِذَا لَمْ يُوْجَدْ إِلَّا ثَوْبٌ وَّاحِدٌ : رم ورواج کا پابندانسان اپنے آپ کو یونی پابندیوں میں جکڑ کر تباہ ہو جاتا ہے۔اسلام نے تکفین و تدفین میں کسی قسم کی قید نہیں لگائی مگر مسلمانوں نے مشرک اقوام کی ریس کر کے آزاد ہونے کے بعد پھر اپنے پاؤں میں بیٹریاں ڈال لی ہیں اور وہ آج کل مرنے پر قسم قسم کے اخراجات کرنے کے لئے قرض کی بھیک مانگتے اور اپنا دیوالیہ نکال کر بیٹھ جاتے ہیں۔قرآن مجید نے تکلیف مالا يطاق سے روکا ہے۔فرمایا: کا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ:۲۸۷) { اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔نیز فرمایا: قُلْ مَا اسْتَلْكُمُ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (ص:۸۶) یعنی تو کہہ دے کہ میں اس (تبلیغ ) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف سے بات کرنے کا عادی ہوں۔روایت نمبر ۱۲۷۵ سے اسی مضمون کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔باب ۲۷ إِذَا لَمْ يَجِدْ كَفَنَا إِلَّا مَا يُوَارِي رَأْسَهُ أَوْ قَدَمَيْهِ عُطَيَ بِهِ رَأْسُةٌ} اگر کسی کو کفن اتنا ہی ملے جو اس کے سر یا پاؤں کو ڈھانپے { تو اس سے اس کا سر ڈھانپ دیا جائے } ١٢٧٦: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ١٢٧٦: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) اعمش حَدَّثَنَا شَقِيقٌ حَدَّثَنَا حَبَّابٌ رَضِيَ الله نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) شقیق نے ہمیں بتایا۔(کہا:) عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت خباب بن ارت ) رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ کہا: ہم نے نبی کے کے ساتھ وطن چھوڑا۔اللہ تعالیٰ ہی کی أَجْرُنَا عَلَى اللهِ فَمِنَّا مَنْ مَّاتَ لَمْ يَأْكُلْ رضامندی ہم چاہتے تھے اور ہمارا بدلہ اللہ کے ذمہ ہو گیا۔ہم میں سے ایسے بھی ہیں جو مر گئے اور انہوں نے اپنے بدلہ سے کچھ نہیں کھایا۔انہیں میں سے حضرت مصعب بن عمیر بھی ہیں مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا اور ہم میں ایسے بھی ہیں جن کا میوہ پک گیا اور وہ اس میوہ کو قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ مَا نُكَفِّتُهُ إِلَّا چن رہے ہیں۔حضرت مصعب احد کے دن شہید ہوئے تھے بُرْدَةً إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ اور میں صرف ایک ہی چادر ملی تھی کہ جس سے ہم ان کو کفنا تے۔ایک رجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے غُطِيَ به راسه" کے الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحہ ۶۰ )