صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 653
صحيح البخاری جلد ۲ تشریح: ۶۵۳ ٢٣ - كتاب الجنائز اَلْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ : میت کے متروکہ مال میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز وتکفین کا خرچ ادا کیا جائے۔یہی فتوئی جمہور کا ہے اور اسی میں خوشبو کا خرچ بھی شامل ہے۔خلاس بن عمرو اور طاؤس کا فتویٰ ہے کہ ایک تہائی سے یہ خرچ ادا کیا جائے۔یہی اختلاف مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ بالا مفتیوں کے فتووں کا حوالہ دیا گیا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۸۰۔یہ فتوے خوشحالی کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں ورنہ موقع کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔روایت نمبر ۴ ۱۲۷ سے یہی سمجھانا مقصود ہے۔باب ٢٦ : إِذَا لَمْ يُوجَدْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ اگر ایک ہی کپڑا ملے ١٢٧٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ :۱۲۷۵ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا : ) بْن إِبْرَاهِيْمَ عَنْ أَبِيْهِ إِبْرَاهِيْمَ أَنَّ عَبْدَ شعبہ نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ سعد نے اپنے باپ ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت بِطَعَام وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ قُتِلَ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے (بوقت مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي كُفْنَ افطار) کھانالا یا گیا اور وہ روزہ دار تھے۔وہ کہنے لگے: فِي بُرْدَةٍ إِنْ غَطِيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رجلاه مصعب بن عمیر شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔وہ وَإِنْ عُطَيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ وَأَرَاهُ قَالَ ایک ہی چادر میں کفنائے گئے۔اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا وَقُتِلَ حَمْرَةً وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي ثُمَّ بُسِطَ تو ان کے پاؤں کھل جاتے۔اگر پاؤں ڈھانپے جاتے تو لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِيْنَا ان کا سر کھل جاتا۔میں سمجھتا ہوں، یہ بھی کہا: حمزہ شہید مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا وَقَدْ حَشِيْنَا أَنْ ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔پھر (ان کے بعد ) ہمیں تَكُوْنَ حَسَنَاتُنَا عُجِلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ دنیا کی وہ کشائش ہوئی جو ہوئی یا یوں کہا: ہمیں دنیا سے وہ کچھ دیا گیا جو دیا گیا اور ہمیں تو ڈر ہے کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ جلدی ہی نہ مل گیا ہو۔پھر وہ رونے لگے یہاں يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ۔اطرافه: ١٢٧٤، ٤٠٤٥۔تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔