صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 652 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 652

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۵۲ باب ٢٥ : الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ کفن سارے مال سے ہو ٢٣ - كتاب الجنائز وَبِهِ قَالَ عَطَاء وَالزُّهْرِيُّ وَعَمْرُو بْنُ اور عطاء، زہری، عمرو بن دینار اور قتادہ نے یہی فتویٰ دِينَارٍ وَقَتَادَةُ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ دیا ہے اور عمر و بن دینار نے کہا: حنوط بھی سارے مال الْحَنُّوطُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ وَقَالَ سے ہو اور ابراہیم (نخعی ) نے کہا: کفن کی پہلے تیاری إِبْرَاهِيمُ يُبْدَأُ بِالْكَفَنِ ثُمَّ بِالدَّيْنِ ثُمَّ کی جائے، پھر قرض ادا کیا جائے۔پھر وصیت پر عمل بِالْوَصِيَّةِ وَقَالَ سُفْيَانُ أَجْرُ الْقَبْرِ ہو اورسفیان (نوری) نے کہا: قبرکھود نے اور نہلانے وَالْغَسْل هُوَ مِنَ الْكَفَن۔کی اجرت بھی کفن میں شامل ہے۔١٢٧٤ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۲۷۴: احمد بن محمد مکی نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعد سے اور سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سعد نے اپنے باپ (ابراہیم بن عبدالرحمن) سے بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا بِطَعَامِهِ روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عبدالرحمن بن عوف کی۔فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ رَضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا لایا گیا تو انہوں خَيْرًا مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيْهِ نے کہا: مصعب بن عمیر شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر إِنَّا بُرْدَةٌ وَقُتِلَ حَمْرَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ تھے۔ان کے لئے سوائے ایک چادر کے کچھ نہیں ملا خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيْهِ إِلَّا جس میں انہیں کفنایا جاتا۔اور حمزہ بھی شہید ہوئے یا بُرْدَةٌ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُوْنَ قَدْ کہا: کوئی دوسرا شخص جو مجھ سے بہتر تھا، اس کے لئے عُجِلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا ثُمَّ بھی سوائے ایک چادر کے کچھ نہیں ملا جس میں انہیں کفنایا جاتا۔مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہمارے آرام کے سامان ہمیں اس دنیا میں ہی نہ دے دیئے گئے ہوں۔( یہ کہہ کر ) پھر آپ رونے لگے۔جَعَلَ يَبْكِي۔اطرافه ١٢٧٥، ٤٠٤٥