صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 651 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 651

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۵۱ ٢٣ - كتاب الجنائز تشریح : الْكَفَنُ بِغَيْرِ قَمِيصِ : آیا تین میں کفنان مستحب ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق بعض احتلاف نے قمیص اختلاف کیا ہے۔جمہور کا مذ ہب یہ ہے کہ مستحب نہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۷۹) بَابِ ٢٤ : الْكَفَنُ بِلَا عِمَامَةِ بغیر دستار کفنانا ۱۲۷۳: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ :۱۲۷۳: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، رَسُوْلَ اللهِ كُفَنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابِ ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بِيْضِ سَحُوْلِيَّةٍ لَيْسَ فِيْهَا قَمِيْصٌ وَلَا روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دھلے ہوئے سفید کپڑوں میں کفنایا گیا۔ان میں عمامة۔نہ قمیص تھی نہ دستار۔اطرافه ۱۲٦٤، ۱۲۷۱ ، ۱۲۷۲، ۱۳۸۷ - تشریح : الْكَفَنُ بِلَا عِمَامَةٍ : قدیم زمانہ میں مت کواس کا پر لباس پہنایا جاتا تھا۔شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے تمام تکلفات سے اپنے متبعین کو رہائی دی۔بعض کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ کے قول لَيْسَ فِيهَا قَمِيضٌ وَلَا عِمَامَةٌ سے مراد یہ ہے کہ تین کپڑوں میں یہ دو کپڑے شامل نہیں۔(فتح الباری تشریح باب ۲۳ جز ۳۰ صفحه ۱۷۹) اس خیال کے ازالہ کے لئے یہ باب الگ قائم کیا گیا ہے۔یہاں سابقہ سند روایت کو مزید تقویت دی ہے۔باوجود اس صراحت کے بلاد عربیہ میں تابوت کے سرہانے پر دستار رکھی جاتی ہے۔یہاں تک کہ میں نے بعض مزاروں میں بزرگوں کی قبروں کے سرہانے دستار موجود دیکھی ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دستار باندھنے کا رواج قدیم زمانہ میں تھا۔چنانچہ قدیم مصر میں یہ رواج حد درجہ کی غلو کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ہندو بھی بڑی تزک و شان سے ارتھی کو مرگھٹ میں آگ کے سپرد کرنے کے لئے لے جاتے ہیں۔