صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 649
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۹ ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۲۷۰ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۱۲۷۰ : مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ (کہا: سفیان بن عیینہ نے ہمیں نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ ( بن دینار) سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَي جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے نبی صل اللہ علیہ وسلم بَعْدَ مَا دُفِنَ فَأَخْرَجَهُ فَنَفَثَ فِيْهِ مِنْ عبد اللہ بن ابی کے پاس اس کے دفن کئے جانے کے رِيْقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ۔ بعد آئے۔ آپ نے اس کو باہر نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس پر ڈالا اور اپنا گر تہ اس کو پہنایا۔ اطرافه: ١٣٥٠، 3008، 5795 تشريح : الْكَفَنُ فِي الْقَمِيصِ الَّذِي يُكَفُ اَوْلَا يُكَفَّ وَمَنْ كُفَنَ بِغَيْرِ قَمِي : : بعض کے نزدیک آستینوں والی کے والی قمیص میں کفنانا مکروہ ہے۔ اس باب سے ان کی رائے کا رد ہوتا ہے۔ باب ۲۲ کا تعلق سابقه با ابقہ باب سے بھی ہے اور اس میں اس اصل کی طرف توجہ دلائو اصل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو عطر لگانا اور اس کا سر ڈھانپنا منع فرمایا۔ یعنی اس امید پر کہ محرم میت قیامت کے روز اپنے احرام کی حالت میں مبعوث ہو گا ۔ آپ نے ایک مشہور منافق کا جنازہ بھی ایک اُمید کی بناء پر پڑھایا۔ حالانکہ ایسے لوگوں سے متعلق آیت اسْتَغْفِرُ لَهُمْ أَوْلَا تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمُ (التوبہ: ۸۰) {توان کے لیے مغفرت طلب کر یا ان کے لیے مغفرت طلب نہ کر ۔ اگر تو ان کے لیے ستر مرتبہ بھی مغفرت مانگے تب بھی اللہ ہرگز انہیں معاف نہیں کرے گا۔} سے بظاہر مغفرت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رحمت مجسم تھے ایک بار یک استدلال سے اس کے ۔ کے لئے امید کا دروازہ کھلا ہے زہ کھلا پایا۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ محرم میت کے لئے ظاہری حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی اخروی بعثت کے بارے میں نیک امید نہ رکھی جائے۔ آپ نے حضرت عمرؓ کو جواب دیا کہ میں ستر بار سے زیادہ اس کے لئے مغفرت طلب کروں گا۔ ( روایت نمبر ۴۶۷۰) علاوہ ازیں شریعت کے احکام کا تعلق ظاہری ، کا تعلق ظاہری حالات سے ہے۔ عبداللہ بن ابی گو منافق تھا عبد اللہ بن ابی گو منافق تھا مگر بظاہر مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ اس کے بیٹے نے جو بہت مخلص تھا نبی صلی ا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا جنازہ پڑھنے کی د ا جنازہ پڑھنے کی درخواست کی اور آپ کی قمیص اس کے کفنانے لیے تبر کا مانگی جو آپ نے دی۔ یہ بھی ایک نیک امید کا مظاہرہ تھا۔ روایت نمبر ۱۲۶۹ میں ہے فَأَعْطَاهُ اور روایت نمبر ۰ ۱۲۷ میں ہے: فَالبَسَة۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قمیص پہنانے کے لیے دی فَاعْطَاهُ سے مراد قمیص دینے کا وعدہ ہے جو آپ نے بعد میں پورا فرمایا۔