صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 648
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز بَاب ۲۲ : الْكَفَنُ فِي الْقَمِيصِ الَّذِي يُكَ أَوْ لَا يُكَفَّ وَمَنْ كُفْنَ بِغَيْرِ قَمِيْصٍ اس قمیص میں کفنانا جس کا حاشیہ سلا ہو یا نہ سلا ہو اور جسے بغیر قمیص کفنایا جائے الا ١٢٦٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۲۶۹ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا بھی بن سعید يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ (قطان) نے ہمیں بتایا۔سکی نے عبداللہ (عمری) - حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَن ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ روایت کی کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔حضرت عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي لَمَّا تُوُفِّيَ (عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عبداللہ بن ابی جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب مر گیا تو اس کا بیٹا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اس وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَعْطِنِي نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنی قمیص دیں تا میں اس میں قَمِيْصَكَ أَكَفِّنْهُ فِيْهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ اس کو کفتاؤں اور آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں اور اس کی وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ مغفرت کی دعا کریں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَقَالَ آذِنِي أُصَلَّى قمیص دی اور فرمایا: ( جب جنازہ تیار ہوتو) مجھے اطلاع دینا۔عَلَيْهِ فَآذَنَهُ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ اس کا جنازہ میں پڑھوں گا۔چنانچہ اس نے آپ کو اطلاع جَذَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَلَيْسَ دی۔جب آپ نے اس کا جنازہ پڑھنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللَّهُ قَدْ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِيْنَ اللہ عنہ نے آپ کو صحیح لیا اور کہا: کیا للہ تعالی نے آپ کو کھینچ فَقَالَ أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ قَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ (التوبة: ٨٠) فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا (التوبة: ٨٤) { وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ }۔اطرافه: ٤٦٧٠ ٤٦٧٢ ٠٥٧٩٦ منافقوں کا جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا۔آپ نے جواب دیا: مجھے دو باتوں کا اختیار دیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ان کے لئے مغفرت کی دعا کریانہ کر اگر ستر بار بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرے گا۔اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز نہیں بخشے گا۔چنانچہ آپ نے اس کا جنازہ پڑھا تو یہ آیت نازل ہوئی: جد یعنی ان میں سے جو کوئی مرجائے تو اس کا جنازہ کبھی نہ پڑھا اور اس کی قبر پر کھڑا بھی نہ ہو۔الفاظ وَلَا تَقُمُ عَلَى قَبْرِهِ، فتح البارى مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۱۷۷) ترجمعہ اس کے مطابق ہے۔