صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 647
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۷ ٢٣ - كتاب الجنائز فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے چوں سے اغْسِلُوْهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفَنُوْهُ فِي نهلا ؤ اور دو کپڑوں میں کفناؤ اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ثَوْبَيْن وَلَا تُمِسُّوهُ طِيْبًا وَلَا تُحَمِّرُوا اس کا سر ڈھانپو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت لبیک رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَيِّبًا کہتے ہوئے اٹھائے گا۔اطرافه: ١٢٦٥، ١٢٦٦ ، ۱۲٦٨، ۱۸۳۹ ، ۱۸٤۹، ١٨٥۰، ١٨٥١ سعيد الله ١٢٦٨: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۱۲۶۸ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) حماد بن حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو وَأَيُّوبَ عَنْ زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرہ (بن دینار ) اور جُبَيْرٍ عَن ابْن عَبَّاس رَضِيَ ایوب سختیانی) سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، قَالَ كَانَ رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت عنهم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ قَالَ أَيُّوبُ فَوَقَصَتْهُ ساتھ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ وہ اونٹنی پر سے گر پڑا۔وَقَالَ عَمْرٌو فَأَقْصَعَتْهُ فَمَاتَ فَقَالَ ایوب نے یہ لفظ کہے: اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی اور اغْسِلُوْهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفْنُوْهُ فِي عمرو نے کہا: اونٹنی نے اس کو گرتے ہی وہیں مارڈالا اور وہ ثَوْبَيْنِ وَلَا تُحَتِطُوْهُ وَلَا تُحَمِّرُوْا رَأْسَهُ مر گیا تو آپ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اور دو کپڑوں میں کفناؤ اور اُسے حنوط نہ لگاؤ اور نہ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَيُّوْبُ يُلَتِيْ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اُٹھے گا۔ایوب نے مضارع کا صیغہ يُلبّی نقل وَقَالَ عَمْرُو مُلَبّيًا۔کیا ہے اور عمرو نے اسم فاعل کا صیغہ ملیا نقل کیا ہے۔اطرافه ١٢٦٥، ١٢٦٦، ۱۲٦٧، ۱۸۳۹، ۱۸٤۹، 1850، 1851۔تشریح: كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحرم باب ۲۰ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام بخاری ، امام شافعی کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔امام شافعی کے نزدیک محرم میت کو نہ خوشبو لگائی جائے اور نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے۔(بداية المجتهد كتاب احكام الميت الباب الثالث في الاكفان) امام بخاری نے واضح واقعہ بیان کرنے کے باوجو د باب نمبر ۲۱ کو عام رکھا ہے۔باب ۲۰ کا عنوان قائم کرتے وقت انہوں نے اسی قسم کا تصرف کیا ہے یعنی محرم میت کو خوشبو نہ لگانے سے غیر محرم میت کو خوشبو لگانے سے متعلق استدلال کیا ہے۔