صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 642 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 642

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۲ ٢٣ - كتاب الجنائز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفنایا گیا (روایت نمبر ۱۳۶۴) اور آپ نے اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم کو پانچ کپڑوں میں کفنایا جیسا کہ ابوداؤد نے حضرت لیلی بنت قائف ثقفیہ کی روایت نقل کی ہے کہ وہ بھی ان عورتوں میں سے تھیں، جنہوں نے حضرت ام کلثوم کو نہلایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے قریب کفن لئے بیٹھے تھے۔سب سے پہلے آپ نے ان کو تہ بند و یا پھر لبی قمیص پھر اوڑھنی پھر لیٹنے کو چادردی اور اس کے بعد پھر ایک اور کپڑا دیا جو اُن تمام کپڑوں کے اوپر لپیٹا گیا۔(ابو داؤد۔كتاب الجنائز، باب في كفن المرأة) امام ابوحنیفہ کے نزدیک عورت کے لئے تین اور مرد کے لئے دو کپڑے بھی کافی ہیں۔گومسنون پانچ اور تین ہی ہیں اور اگر نہ ملے تو ایک ہی۔چنانچہ حضرت مصعب بن عمیر جنگ احد میں ایک ہی کپڑے میں کفنائے گئے تھے جو اتنا چھوٹا تھا کہ اگر سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سرنگا ہو جاتا۔آخر ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈالی گئی۔(بخاری۔كتاب الجنائز، باب اذالم يجد كفنا الا ما يوارى رأسه او قدميه روایت نمبر ۱۳۷۶) (بداية المجتهد كتاب احكام الميت الباب الثالث في الاكفان) کپڑوں کی کمی بیشی کا تعلق حالات کے ساتھ ہے۔بَاب ١٦ : يُجْعَلُ شَعَرُ الْمَرْأَةِ ثَلَاثَةَ قُرُوْنٍ عورت کے بالوں کی تین لٹیں کی جائیں ١٢٦٢: حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ حَدَّثَنَا ۱۲۶۲ قبیصہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سفیان سُفْيَانُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أُمِّ الْهُدَيْلِ عَنْ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام (بن حسان ) سے، أُمّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ضَفَرْنَا ہشام نے ام ہذیل (حفصہ بنت سیرین ) سے، ام ھذیل نے شَعَرَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : ہم تَعْنِي ثَلاثَةَ قُرُوْنٍ وَقَالَ وَكِيعٌ قَالَ نے نہ صلی اللہ علیہ سلم کی بیٹی کے بالوںکو گوندھ کر ان کی تین چوٹیاں کر دیں اور وکیع نے کہا: سفیان ثوری نے بیان کیا: اس کی سُفْيَانُ نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا۔پیشانی کے بالوں کی چوٹی اور ( دو چوٹیاں ) ادھر اُدھر کی۔اطرافه ۱٦٧ ، ۱۲۵۳ ، ۱۲٥٤، ۱۲۵۵، ١٢٥٦، ۱۲٥٧، ۱۲۵۸، ۱۲۵۹، ١٢٦۰، ١٢٦١، ١٢٦٣۔تشریح: يُجْعَلُ شَعَرُ الْمَرْأَةِ ثَلاثَةَ قُرُونٍ: حضرت ام عطیہ نے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بالوں کی تین لٹیں کیں۔اس پر فقہاء نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے ایسا کیا گیا تھا یا بغیر علم یا حضرت ام عطیہ نے بطور خود۔(فتح الباری جز ۳ صفحہ ۱۷۲) بجز اس تحقیق کے اس مسئلہ کو شرعی صورت نہیں دی جاسکتی۔کیونکہ دونوں احتمال ہیں۔اس لئے امام بخاری نے ادبا اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا اور فتوئی بغیر جواب کے چھوڑا ہے۔یہ مسئلہ ایسے مسائل میں سے ہے جنہیں شریعت میں اہمیت حاصل نہیں۔حنفی بال پیچھے اور چہرے پر کھلے چھوڑ دیتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۱۷۲)