صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 643 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 643

صحيح البخاری جلد ۲ الله ٢٣ - كتاب الجنائز باب ۱۷ : يُلْقَى شَعَرُ الْمَرْأَةِ خَلْقَهَا ثَلَاثَةَ قُرُوْنَ } سے عورت کے بالوں کی تین لٹیں کر کے اہم اس کے پیچھے کی طرف ڈال دی جائیں ١٢٦٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۲۶۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) سجی يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانِ بن سعید ( قطان ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام قَالَ حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ رَضِيَ بن حسان سے روایت کی، کہا: حفصہ (بنت سیرین) عَنْهَا قَالَت تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ نے ہمیں بتایا۔حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا النَّبِيُّ مروی ہے کہ وہ کہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا میں سے ایک بیٹی فوت ہوگئی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم بِالسَدْرِ وثرًا ثَلاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ وَاجْعَلْنَ فِي سے طاق (ہونے کی حالت میں) یعنی تین دفعہ یا الْآخِرَةِ كَافُوْرًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُوْرِ پانچ دفعہ یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو نہلا ؤ اور فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَاذِئِنِي فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَاهُ آخری بار میں کافور ڈالو۔یا فرمایا: کچھ کا فور ڈالو۔فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَضَفَرْنَا شَعَرَهَا جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر دو۔جب ہم فارغ ثَلَاثَةَ قُرُوْنٍ وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا۔ہو ئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی اور آپ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا۔ہم نے اس کے بالوں کی تین چوٹیاں گوندھیں اور وہ اس کے پیچھے ڈال دیں۔اطرافه: ١٦٧، ١٢٥٣، ١٢٥٤، ١٢٥٥، ١٢٥٦، ١٢٥٧، ١٢٥٨، ١٢٥٩، ١٢٦٠، ١٢٦١، ١٢٦٢۔تشریح : يُلْقَى شَعَرُ الْمَرْأَهِ خَلْفَهَا: ہالوں کی میں کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ہال پراگندہ ہوں۔بعض کا خیال ہے کہ بغیر گوندھنے کے کچھ بال پیچھے ڈال دئے جائیں اور کچھ آگے کنگھی کرنا بھی ان کے نزد یک مناسب نہیں۔باب ۱۶ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ احناف بالوں کو کھلا چھوڑتے ہیں۔الفاظ ثَلاثَةَ قُرُونِ حموی کے نسخہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۱۷۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔