صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 641 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 641

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۱ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٢٦١ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۱۲۶۱: احمد بن صالح) نے ہم سے بیان کیا، (کہا : ) اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا :) يُوْبَ أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ سِيْرِيْنَ ابن جریج نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ان کو بتایا۔انہوں نے يَقُوْلُ جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ کہا: میں نے ابن سیرین سے سنا۔کہتے تھے: ایک انصاری مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ اللَّاتِي بَايَعْنَ قَدِمَتِ عورت حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جو اُن عورتوں میں سے الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنَا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ تھیں جنہوں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ) بیعت کی تھی، فَحَدَّثَتْنَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى بصرہ آ ئیں تا اپنے بیٹے کو مرنے سے پہلے دیکھ لیں مگر نہ دیکھ سکیں۔انہوں نے ہم سے بیان کیا۔کہتی تھیں: نبی ہے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ہمارے پاس آئے۔ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہی تھیں اور آپ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ بار یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو نہلا ؤ اور آخری دفعہ کا فور مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُوْرًا فَإِذَا بھی ملا دو اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو کہتی تھیں: فَرَغْتُنَّ فَاذِئِنِي قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى جب ہم فارغ ہو ئیں تو آپ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ وَلَمْ يَزِدْ یہ اس کے بدن پر لپیٹ دو اور (حضرت ام عطیہ نے ) اس عَلَى ذَلِكَ وَلَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ وَزَعَمَ سے زیادہ نہیں بیان کیا اور میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی بیٹیوں أَنَّ الْإِشْعَارَ الْفُفْنَهَا فِيْهِ وَكَذَلِكَ كَانَ میں سے کون سی تھی اور (ایوب کا) خیال ہے کہ اشعار سے ابْنُ سِيْرِيْنَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ وَلَا مراد یہ ہے کہ اس کو اس میں لپیٹ دو اور اسی طرح ابن سیرین عورت سے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ لپیٹ دی جائے اور تُوْزَرَ اسے تہ بند نہ پہنایا جائے۔اطرافه: ١٦٧، ١٢٥٣، ١٢٥٤، ١٢٥٥، ١٢٥٦، ١٢٥٧، ١٢٥٨، ١٢٥٩، ١٢٦٠، ١٢٦٢، ١٢٦٣۔تشریح : كَيْفَ الْإِشْعَارُ لِلْمَيِّتِ : کفن سے تعلق فقہاء میں خلاف ہوا ہے کہ کتنے کپڑوں پرمشتمل ہو؟ امام مالک کے نزدیک ایک کپڑا بھی کافی ہے اور امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے مرد کو تین اور عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنانا سنت قرار دیا ہے۔(بداية المجتهد۔کتاب احكام الميت۔الباب الثالث في الاكفان) کیونکہ