صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 640 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 640

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۰ ٢٣ - كتاب الجنائز ( خوشبودار مصالحہ ) استعمال کیا جائے۔باب ہذا میں اس اختلاف کی طرف بھی اشارہ ہے۔جمہور کا یہی مذہب ہے کہ پانی میں کافور ملا لیا جائے۔(فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۱۹۹) بَاب ١٤ : نَقْضُ شَعَرِ الْمَرْأَةِ عورت کے بال کھولنا وَقَالَ ابْنُ سِيْرِيْنَ لَا بَأْسَ أَنْ يُنْقَضَ اور ابن سیرین نے کہا: کوئی حرج نہیں اگر عورت 7 کے بال کھول دیئے جائیں۔شَعَرُ الْمَيِّتِ ١٢٦٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۲۶۰: احمد بن صالح) نے ہم سے بیان کیا، اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ ) کہا :) عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔أَيُّوبُ وَسَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيْرِيْنَ (انہوں نے کہا : ( ابن جریج نے ہمیں بتایا کہ ایوب قَالَتْ حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کہتے تھے: میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا۔کہتی تھیں: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَـ بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ نَقَصْنَهُ ثُمَّ بیٹی کے سر کے بالوں کی تین لٹیں کر دیں۔انہیں پہلے غَسَلْنَهُ ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُوْنٍ۔کھولا پھر انہیں دھویا۔پھر ان کی تین لٹیں کیں۔اطرافه ،١٦٧، ١٢٥٣، ١٢٥٤، ١٢٥٥، ۱۲٥٦، ،۱۲۵۷، ١٢٥۸، ١٢٥٩، ١٢٦١، ،١٢٦٢، ١٢٦٣ سم الله تشریح : نَقْصُ شَعَرِ الْمَرْأَةِ: روایت نمر ۱۲۰ کے الفاظ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنتِ الي ل له قرون سے مراد سر کے بال ہیں جیسا کہ عنوان باب میں تشریح کی گئی ہے۔ابن سیرین کے فتوئی کا حوالہ ان لوگوں کو مد نظر رکھ کر دیا گیا ہے جو بال کھونا یا کنگھی کرنا اس لئے مکر وہ جانتے ہیں کہ کہیں بال ٹوٹ نہ جائیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۷) یہ وہم ہے۔باب ١٥ : كَيْفَ الْإِشْعَارُ لِلْمَيِّتِ میت ( کے بدن ) پر کپڑا کیسے لیٹا جائے؟ وَقَالَ الْحَسَنُ الْخِرْقَةُ الْخَامِسَةُ يَشُدُّ اور حسن بصری) نے کہا: (عورت کے لئے) پانچواں کپڑا بھی بِهَا الْفَخِذَيْنِ وَالْوَرِكَيْنِ تَحْتَ الدِّرْعِ چاہیے۔جس سے قمیص کے نیچے ا میں اور سرین باندھے جائیں۔حمد عمدۃ القاری میں لفظ المیت کی بجائے " الْمَرْأَةِ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۸ صفحہ ۴۵ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔