صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 639
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳۹ ٢٣ - كتاب الجنائز مُحَمَّدٍ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَت محمد بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ سے إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ فوت ہو گئیں۔آپ باہر آئے اور فرمایا: اسے تین یا پانچ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ بار پانی اور بیری کے پتوں سے نہلا دیا اس سے زیادہ دفعہ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ اگر تم مناسب سمجھو اور آخری (غسل) میں کافور۔یا فرمایا: كَافُوْرًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُوْر فَإِذَا فَرَغْتُنَّ کچھ کا فور بھی ملا لو اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع فَاذِنَنِي قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَاهُ فَأَلْقَى دو۔کہتی تھیں: جب ہم فارغ ہوئیں تو آپ کو اطلاع إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ وَعَنْ دی۔آپ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: اسے اس پر أَيُّوْبَ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمَ عَطِيَّةَ رَضِيَ لپیٹ دو اور ایوب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ایوب اللهُ عَنْهَا بِنَحْوه۔نے حفصہ سے، حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی۔اطرافه ۱٦٧ ،۱۲۵۳ ،۱۲۵، ۱۲۵۵، ،۱۲٥٦، ۱۲۵۷، ۱۲۵۹، ۱۲۶۰، ١٢٦۱، ١٢٦٢، ١٢٦٣۔١٢٥٩ : وَقَالَتْ إِنَّهُ قَالَ اغْسِلْنَهَا :۱۲۵۹ اور وہ کہتی تھیں : آپ نے فرمایا: اسے ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ تین یا پانچ یا سات بار نہلاؤ یا اس سے زیادہ اگر تم ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ قَالَتْ حَفْصَةُ قَالَتْ أُمُّ مناسب سمجھو۔حفصہ کہتی تھیں کہ حضرت ام عطیہ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا رَضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے اس کے سر کے بالوں کی ثَلَاثَةَ قُرُوْنٍ تین لٹیں کر دیں۔اطرافه: ١٦٧، ۱۲۵٣ ،۱۲۵، ۱۲۵۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۵۸، ۱۲۶۰، ١۲۶۱، ١٢٦٢، ١٢٦٣۔تشريح :۔٤٠٠۔يُجْعَلُ الْكَافُورُ فِي الْآخِيرَةِ: یہودیوں کے ہاں میت کو خوشبودار مصالحہ جات سے غسل دیا جاتا تھا جس کے لئے بہت اخراجات برداشت کرنے پڑتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تجہیز وتکفین میں سادگی اختیار کرنے کی ہدایت فرما کر تکلفات سے نجات دلائی۔يَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: ۱۵۸) { اور ان سے ان کے بوجھ اور طوق اتار دیتا ہے جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔امام اوزاعی اور بعض احناف سے اس بارے میں ایک اختلافی قول مروی ہے کہ کافور پانی میں نہ ملایا جائے بلکہ نہلانے کے بعد حنوط