صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 638 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 638

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳۸ باب ۱۲ : هَلْ تَكَفَّنُ الْمَرْأَةُ فِي إِزَارِ الرَّجُل کیا عورت مرد کے نہ بند میں کفنائی جائے؟ ٢٣ - كتاب الجنائز :١٢٥٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ :۱۲۵۷ عبد الرحمن بن حماد نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ ( عبد الله بن عون نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد (بن أُمّ عَطِيَّةَ قَالَتْ تُوُفِّيَتْ بِنْتُ النَّبِي سیرین) سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَنَا کہ وہ کہتی تھیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فوت ہوئیں تو اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ آپ نے ہم سے فرمایا: اسے تین یا پانچ بار نہلاؤ یا اس ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَاذِنَّنِي سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو۔جب تم فارغ ہو جاؤ تو فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَنَزَعَ مِنْ حِقْوِهِ مجھے اطلاع دو۔جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ کو إِزَارَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ۔اطلاع دی تو آپ نے اپنا نہ بندا اپنی کمر سے اتار کر دیا اور فرمایا: اسے اس پر لپیٹ دو۔اطرافه ،۱٦٧ ، ۱۲۵۳ ، ۱۲۵، ۱۲۵۵، ۱۲۵۶، ۱۲۵۸، ١۱۲۵۹، ١٢٦٠، ١٢٦١، ١٢٦٢، ١٢٦٣۔تشريح : هَلْ تُكَفَّنُ الْمَرْاَةُ فِى إِزَارِ الرَّجُلِ : ابن بطال سے منقول ہے کہ اس مسئلے پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ محرم عورت محرم مرد کے پہنے ہوئے کپڑے میں کفنائی جاسکتی ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۱۶۹) مگر باوجود اس اتفاق کے امام بخاری نے عنوان باب کھل سے شروع کر کے جواب محذوف کر دیا ہے۔جس سے پایا جاتا ہے کہ مسئلہ مذکورہ بالا صرف ایک فتوی کی صورت رکھتا ہے۔بوقت معذوری مرد کا کپڑا عورت کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔عربوں پر یہودیوں اور مشرکین کے رسوم و عادات کا اثر غالب تھا۔جس کا کچھ ذکر باب ۸ کی تشریح میں گذر چکا ہے۔اسے دور کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موقع پر ہدایات دی ہیں۔نیز اس تعلق میں باب ۱۳ کی تشریح بھی دیکھئے۔باب ۱۳ : يُجْعَلُ الْكَافُوْرُ فِي الْأَخِيْرَةِ آخری (غنسل ) میں کافور ملا دیا جائے ١٢٥٨: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ :۱۲۵۸ حامد بن عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) حماد حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب نے