صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 637 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 637

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳۷ ٢٣ - كتاب الجنائز تشریح : يُبْدَأُ بِمَيَامِنِ الْمَيِّتِ : ابوقلابہ کا قول ہے کہ میت کونسل دیتے وقت پہلے اس کے سرسے ابتداء کی جائے۔اس کے بعد داڑھی دھوئی جائے۔اس قسم کے اختلاف کو مد نظر رکھ کر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۶۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام میں ایک معین طریقہ تھا۔ان ابواب کی روایات سے بالوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غسل میں کیا عادت تھی اور آپ ہمیشہ دائیں طرف سے شروع کرتے۔ذہنی تصورات اور معنوی رجحانات کا ہیولی ظاہری افعال سے ہی تیار ہوتا ہے۔طاق عددکو ملحوظ رکھنے کی تعلیم بھی در اصل اسی نقطہ پر مبنی ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الوضو، تشریح باب ۲۴۔بَاب ۱۱ : مَوَاضِعُ الْوُضُوْءِ مِنَ الْمَيِّتِ میت کے وضو کرنے کی جگہیں ١٢٥٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى :۱۲۵۶ يحيی بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا :) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدٍ وکیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان ثوری) سے، الْحَدَّاءِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيْرِيْنَ عَنْ سفیان نے خالد حذاء سے، خالد نے حفصہ بنت أمّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا سیرین سے، حفصہ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا غَسَلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : جب ہم نبی ﷺ کی کی وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا ابْدَءُ وا بیٹی کو نہلانے لگیں تو آپ نے ہمیں جبکہ ابھی ہم بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوْءِ۔نہلا رہی تھیں، فرمایا: اس کے داہنے حصوں اور وضو کی جگہوں سے پہلے شروع کرو۔اطرافه: ۱٦٧ ،۱۲۵۳ ،۱۲۵، ۱۲۵۵، ،۱۲۵۷، ۱۲۵۸، ۱۲۵۹، ۱۲۶۰، ١٢٦۱، ١٢٦٢، ١٢٦٣ تشريح مَوَاضِعُ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَيِّتِ : احناف کے نزدیک میت کو وضوکر انا متب نہیں۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں روایت کے وہ الفاظ نمایاں کئے ہیں جن سے وضو کرنے کا استدلال کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ حضرت ابوذر کے نزدیک اسے کھلی بھی کرانی چاہیے اور اس کے ناک میں پانی ڈال کر اُسے صاف کرنا چاہیے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۱۶۸)