صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 635
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳۵ ٢٣ - كتاب الجنائز روایات باب ۲۳ تا باب (۲۵) موت سے صفت ایمان مفقود نہیں ہو جاتی۔یہودیوں کا اعتقاد تھا کہ مردے کو نہلانے اور تجہیز و تکفین کرنے والا سات دن تک نا پاک رہتا ہے۔اسلام نے ان کے اس خیال کی اصلاح کی اور عربوں پر یہودیوں کے اس وہم کا جو اثر تھا اس کا ازالہ فرمایا۔مشرک اقوام میں یہ وہم زیادہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ ہندوؤں میں بھی یہی خیال موجود ہے۔مردے کو نہلانے کے متعلق جمہور کا یہ مذہب ہے کہ واجب ہے اور مالکیوں کے نزدیک سنت۔( فتح الباری جز ۳۶ صفحہ (1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نہلانے میں اس کے طاہر یا نجس ہونے کا سوال ہی نہیں بلکہ بدن کی صفائی مقصود ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت زینب کے نہلانے پر ارشاد فرمایا: تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اس کو نہلاؤ یہاں تک کہ بدن کی میل دور ہو جائے۔کا فور اور حنوط بھی اسی غرض کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔حضرت ابن عمرؓ کا سعید بن زید کے بیٹے کو حنوط لگانے اور اس کا جنازہ اٹھانے اور پھر وضو نہ کرنے کا ذکر امام مالک نے اپنی مو طامیں بروایت نافع کیا ہے۔(موطا امام مالک، کتاب الطهارة، باب ما لا يجب منه الوضوء) اور حضرت سعد کا قول ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن زید کو نہلایا اور کفنایا اور پھر جب وہ جنازے اور دفنانے سے فارغ ہو کر گھر آئے تو انہوں نے غسل کیا اور کہا: لَمْ أغْتَسِلُ مِنْ غَسْلِهِ وَلَوْ كَانَ نَجْسًا مَا مَسَسْتُهُ وَلَكِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْحَرِّ۔مصنف ابن ابى شيبه كتاب الجنائز۔باب من قال ليس على غاسل الميت غسل جزء ۲ صفحه ۴۶۹ روایت نمبر ۱۱۳۹) یعنی میں میت کو غسل دینے کی وجہ سے نہیں بلکہ گرمی کی وجہ سے نہایا ہوں۔تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جلد ۳ صفحه ۱۶۳۔باب ۹ : مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُغْسَلَ وثرًا طاق بار نہلا نا جو پسندیدہ ہے ١٢٥٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۲۵۴ محمد بن مثنی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) الْوَهَّابِ التَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عبد الوهاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ایوب نے محمد بن سیرین ) سے، انہوں نے حضرت ام عطیہ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: رسول اللہ ماہیے وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ ہمارے پاس آئے اور ہم آپ کی لڑکی کو نہلا رہے تھے تو آپ اغْسِلْنَهَا ثَلاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ نے فرمایا: اسے تین یا پانچ دفعہ یا اس سے زیادہ دفعہ پانی اور ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْر وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ بیری کے چوں سے نہلاؤ اور آخری دفعہ میں کافور ڈال دو اور كَافُوْرًا فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَاذِنَّنِي فَلَمَّا جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دو۔جب ہم فارغ ہوئیں تو