صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 634 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 634

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳۴ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٢٥٣ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ ۱۲۵۳: اسماعیل بن عبد اللہ بن ابی اولیس) نے ہم اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَيُّوبَ سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ایوب السَّحْتِيَانِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ عَنْ سختیانی ہے، ایوب نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کہ وہ کہتی تھیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ فَقَالَ لڑکی فوت ہو گئیں تو آپ ہمارے پاس آئے اور اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ فرمایا: اس کو تین یا پانچ بار پانی اور بیری کے پتوں ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ سے نہلا ؤ یا اس سے زیادہ بار اگر تم مناسب سمجھو اور وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُوْرًا أَوْ شَيْئًا آخری بار میں کافور ڈال دو یا فرمایا : کچھ کا فور ڈال مِنْ كَافُوْرٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَاذِئِنِي فَلَمَّا دو۔جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے اطلاع دو۔سو جب فَرَغْنَا آذَنَاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ فَقَالَ ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی۔آپ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ۔نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: یہ اس پر لپیٹ دو۔یعنی آپ کے نہ بند کو۔اطرافه: ١٦٧، ۱۲٥٤، ۱۲۵۵، ۱۲۵۶ ،۱۲۵۷، ۱۲۵۸، ۱۲۵۹، ۱۲۶۰، ١۲۶۱، ١٢٦٢، ١٢٦٣۔تشریح غُسْلُ الْمَيِّتِ وَوُضُوءُ هُ: ایک فقہی اختلاف مد نظر رکھتے ہوئے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔یعنی یہ کہ میت کو غسل دینا واجب ہے یا سنت اور آیا اسے وضو کرانا بھی ضروری ہے، جبکہ عبادت کا حکم اس سے ساقط ہے؟ اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کے لئے عنوانِ باب میں متعدد اقوال کا حوالہ دیا گیا ہے۔ابوداؤد نے حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت نقل کی ہے : مَنْ غَسَّلَ الْمَيِّتَ فَلْيَغْتَسِلُ وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضَّا (ابوداؤد، کتاب الجنائز۔باب في الغسل من غسل الميت) جو میت کو نہلائے وہ خود بھی نہائے اور اسے اٹھانے والا وضو کرے۔یہ روایت کمزور ہے اور اس سے پایا جاتا ہے کہ گویا مردہ نجس ہے مگر یہ میچ نہیں۔حضرت ابن عباس کے جس قول کا حوالہ عنوان باب میں دیا گیا ہے اس کے یہ الفاظ ہیں: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ الله لا تُنَجِّسُوا مَوْتَاكُمْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ بِنَجَسٍ حَيًّا وَلَا مَيْتًا۔(سنن الدار قطني۔كتاب الجنائز باب المسلم ليس بنجس) حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کونا پاک نہ قرار دو کیونکہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا نہ زندگی میں اور نہ مرکز۔اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کتاب الغسل میں گزر چکا ہے۔(دیکھئے کتاب الغسل تشریح۔