صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 633
صحیح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز بَاب : قَوْلُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَةِ عِنْدَ الْقَبْرِ اصْبِرِي آدمی کا عورت سے قبر کے پاس کہنا کہ صبر کر ١٢٥٢ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۲۵۲ : آدم (بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا، ( کہا:) حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) ثابت نے اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک فَقَالَ اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي۔ اطرافه ۱۲۸۳، ۱۳۰۲، 7154۔ عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس ( بیٹھی ) رورہی تھی ۔ آپ نے فرمایا: اللہ کوسپر بنا اور صبر کر۔ تشریح : اتَّقِ اللهَ وَاصْبِرِی : سب سے زیادہ جزع فزع عورتیں کیا کرتی ہیں اس لئے مر کو چاہیے کہ ن کو صبر کی تلقین کرے۔ قبروں پر جا کر واویلا کرنا شعار اسلام کے منافی ہے۔ سابقہ باب میں صبر کرنے تلقین کرے ۔ قبروں والوں کے لئے بشارت کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر عورتوں کو دی تھی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے که صبر نہ کرنا تقویٰ کے خلاف ہے۔ بَاب : غُسْلُ الْمَيِّتِ وَوُضُوْءُهُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے نہلانا اور وضو کرانا وَحَنَّطَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ابْنَا اور ( حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما نے سعید بن لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَحَمَلَهُ وَصَلَّی وَلَمْ زید کے ایک بیٹے کو حنوط لگایا اور اس کو اٹھا کر لے گئے يَتَوَضَّأْ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ اور جنازہ پڑھا اور وضو نہیں کیا۔ حضرت ابن عباس عَنْهُمَا الْمُسْلِمُ لَا يَنْجُسُ حَيًّا وَلَا مَيْتًا رضی اللہ عنہما کہتے تھے: مسلمان نہ زندگی میں ناپاک وَقَالَ سَعْدٌ لَوْ كَانَ نَجِسًا مَا مَسَسْتُهُ ہوتا ہے نہ مرکر اور حضرت سعد ( بن ابی وقاص ) کہتے وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھے: اگر مردہ نجس ہوتا تو میں اس کو ہرگز نہ چھوتا اور نبی الْمُؤْمِنُ لَا يَنْجُسُ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن نا پاک نہیں ہوتا ۔