صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 49 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 49

صحیح البخاری جلد ۲ ۴۹ ١٠ - كتاب الأذان الدَّرْدَاءِ تَقُوْلُ دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ میں نے ام درداء سے سنا۔ وہ کہتی تھیں کہ حضرت وَهُوَ مُعْضَبٌ فَقُلْتُ مَا أَغْضَبَكَ فَقَالَ ابو درداء میرے پاس آئے اور وہ غصے میں تھے۔ میں وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی نے کہا: تمہیں کس بات نے برہم کیا ہے۔ انہوں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّوْنَ کہا: اللہ کی قسم ! میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق جَمِيعًا ۔ کی کوئی بات بھی نہیں دیکھتا ۔ سوائے اس کے کہ وہ جماعت سے نماز پڑھتے ہیں۔ ٦٥١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۶۵۱ : محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابواسامہ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے برید بن عبداللہ سے، ارية اللهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ برید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابوموسی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی ۔ وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فرمایا: لوگوں میں سے نماز کا سب سے بڑا ثواب سے چل کر فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشَى وَالَّذِي يَنْتَظِرُ حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں جو دور سے ؟ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ آتے ہیں۔ پھر وہ ہیں جو ان سے زیادہ دور ۔ أَجْرًا مِّنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ۔ سے آنے والے ہیں اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ امام کے ساتھ پڑھتا ہے۔ وہ اس شخص سے زیادہ ثواب حاصل کرنے والا ہوگا جو نماز پڑھ کر سوجاتا ہے۔ کہا تشريح : تَفْضُلُ صَلوةُ الْجَمِيعِ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ وَحدَ : اسباب کی پہلی رات میں امام بخاری نے دو مختلف حوالے دے کر پچھیں اور ستائیس درجے کے درمیان وہی فرق نمایاں کیا ہے جس کا سابقہ باب میں ذکر کیا جا چکا ہے ۔ تَفْضُلُ صَلوةُ الْجَمِيعِ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ کی روایت نقل کر کے صبح کی نماز کی دو خصوصیتیں بیان کی ہیں۔ ایک دن رات کے ملائکہ کا اکٹھا ہونا اور دوسرا قرات فجر کا مشہور ہونا۔ اس کے بعد حضرت ابن عمر کا یہ قول نقل کیا ہے : تَفْضُلُهَا بِسَبْعٍ وَ عِشْرِينَ دَرَجَةً اس سے یہی سمجھانا مقصود ہے کہ ستائیس درجے والی روایت بھی صحیح ہے اور اس کا تعلق نماز فجر سے ہے۔ جس میں ملائکہ کا اجتماع ہوتا ہے اور قرآت بالجبر ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے تشریح کتاب مواقيت الصلوة - باب ۱۶ اور کتاب الاذان باب ۳۰۔