صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 50 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 50

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۰ ١٠ - كتاب الأذان صلى الله مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ : امت محمد سے یہاں مراد زمانہ نبوی بھی ہو یہاں مراد زمانہ نبوی بھی ہو سکتا ہے اور شریعت بھی۔ حضرت ابو درداء اس دور کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے اعمال میں بلحاظ روحانیت بہت کچھ تغیر واقع ہو چکا تھا۔ بحالیکہ وہ با جماعت نماز پڑھتے تھے اور اس کی یہی وجہ تھی کہ یہ مسئلہ عام لوگوں کے نزدیک متفق علیہ تھا که نماز فریضہ با جماعت ہی ہوتی ہے اور نماز فریضہ کا جماعت کے ساتھ مشروط ہونا ہی دراصل وہ مزیت ہے جو اس نماز کو اکیلے کی نماز پر فضیلت دے رہی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کو امام موصوف اس باب میں وا و امام موصوف اس باب میں واضح کرنا چاہتے ہیں۔ اس مزیت کی وجہ سے جو جو خصوصیتیں کسی نماز کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں ان خصوصیتوں کی نسبت سے اس نماز کا ثواب بھی بڑھتا رہے گا۔ جیسے فجر کی نماز میں ملائکہ کی حاضری اور قرآت کی خاص تاکید اور نماز کے لئے دور سے چل کر آنا وغیرہ امور ایسے ہیں جو ثواب کو بڑھاتے ہیں۔ جیسا کہ اس دور میں لوگوں کی نمازیں سوائے باجماعت پڑھے جانے کے باقی خشوع و خضوع وغیرہ سے خالی ہو گئیں تھیں اور ان کا ثواب بھی ویسے ہی کم ہو گیا تھا۔ بَاب ۳۲ : فَضْلُ التَّهْجِيْرِ إِلَى الظُّهْرِ نماز ظہر کے لئے اول وقت جانے کی فضیلت ٦٥٢ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ۶۵۲ : قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سُمَةٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ہے، مالک نے سمئی سے، جو کہ ابو بکر ( بن عبد الرحمن ) السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ کے آزاد کردہ غلام تھے من نے ابو صالح سمان سے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ يَمْشِي بِطَرِيقِ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی اثناء میں کہ الطَّرِيقِ فَأَخَرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ۔ ایک شخص راستے پر چلا جارہا تھا۔ اس نے کانٹوں والی شاخ راستے پر پائی وہ اس نے ہٹادی۔ تو اللہ تعالیٰ اطرافه: ٢٤٧٢۔ :٦٥٣ نے اس کی قدر کی اور اس کے گناہ معاف کر دیئے۔ ثُمَّ قَالَ الشُّهَدَاءُ ۶۵۳: پھر آپ نے فرمایا: شہید پانچ ہیں۔ خَمْسَةٌ الْمَطْعُوْنُ وَالْمَبْطُوْنُ وَالْغَرِيقُ طاعون سے مرنے والا اور پیٹ کے عارضے سے وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيْلِ مرنے والا اور ڈوب کر مرنے والا اور مکان کے گرنے