صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 632
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳۲ ٢٣ - كتاب الجنائز إِلَّا تَحَلَّهُ الْقَسَم: یہ اشارہ ہے قرآن مجید کی اس آیت کی طرف وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوُا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا (مریم:۷۳۷۲) { اور تم ( ظالموں) میں سے کوئی نہیں مگر وہ ضرور اس پر اترنے والا ہے۔یہ تیرے رب پر ایک طے شدہ فیصلہ کے طور پر فرض ہے۔پھر ہم ان کو بچا لیں گے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ہم ظالموں کو اُس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔} اس آیت کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یعنی اے بُرو اور اے نیکو! تم میں سے کوئی بھی نہیں جو جہنم کی آگ پر گزر نہ کرے مگر وہ جو خدا کے لئے اس آگ میں پڑتے ہیں وہ نجات دئے جائیں گے لیکن وہ جو اپنے نفس امارہ کے لئے آگ پر چلتا ہے وہ آگ اسے کھا جائے گی۔پس مبارک وہ جو خدا کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بد بخت وہ جو اپنے نفس کے لئے خدا سے جنگ کر رہے ہیں اور اس سے موافقت نہیں کرتے۔کشتی نوح صفحه ۲۷۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۵) اور بہشت اور دوزخ کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ بہشت اور دوزخ کی جڑھ اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے جیسا کہ دوزخ کے باب میں ایک اور جگہ فرماتا ہے : نَارُ اللَّهِ الْمُؤقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ۔(الهمزه: ۸،۷) یعنی دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اس کا منبع ہے اور گناہ سے بھڑکتی ہے اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس آگ کی اصل جڑھ وہ غم اور حسرتیں اور درد ہیں جو دل کو پکڑتے ہیں کیونکہ تمام روحانی عذاب پہلے دل سے ہی شروع ہوتے ہیں اور پھر تمام بدن پر محیط ہو جاتے ہیں۔( اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۷۹۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۹۳) نیز اس تعلق میں مفصل دیکھیں " آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۲ تا ۱۵۷‘ اور تفسیر کبیر مصنفہ حضرت خلیفة المسح الثافي تفسير سورۃ مریم آیت نمبر ۷۲، جلد ۵ صفحه ۳۳۵ تا ۳۳۸“۔