صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 631 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 631

صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز اس مفہوم کے مطابق حضرت ابو ہریرہ کی مرفوع روایت ہے جو امام بخاری نے کتاب الرقاق میں نقل کی ہے: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لِعَبْدِى الْمُؤْمِنِ عِنْدِى جَزَاء إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ اَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلَّا الْجَنَّةُ (بخارى كتاب الرقاق، باب العمل الذى يبتغي به وجه الله، روایت نمبر ۶۴۲۴) یہ روایت نہایت صحیح ہے اور تین کی تخصیص اُڑاتی ہے۔اسی عدم تخصیص کی طرف توجہ منعطف کرانے کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاثْنَان : حضرت انسؓ کی والدہ حضرت ام سلیم انصاریہ کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا اور اگر دو بچے مریں تو تب بھی جنت میں داخل ہوگا۔حضرت ام سلیم اس پر خاموش ہوگئیں اور آپ کا منشاء مبارک سمجھ کر ایک کی نسبت نہ پوچھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص شخص کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو تسلی دینے کے لئے ایسا فرمایا۔بعض مرفوع اور صحیح روایتیں پائی جاتی ہیں جن میں ایک کا بھی ذکر ہے اور بعض روایتوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صرف عورتوں ہی کے لئے یہ بشارت نہیں۔جیسا کہ روایت نمبر ۱۲۴۸ اور نمبر ۱۲۵ کے الفاظ سے واضح ہے۔اور روایت نمبر ۱۲۴۹ کے الفاظ أَيُّمَا امْرَاةٍ مَّاتَ لَهَا ثَلاثَةٌ مِّنَ الْوَلَدِ۔۔بھی یہی مفہوم رکھتے ہیں کہ یہ بشارت والدین کے لئے علی الاطلاق ہے۔بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر صبر سے کام لیں اسی اہم شرط اور عمومیت کی طرف توجہ دلانے کے لئے امام موصوف نے عنوانِ باب میں قرآن مجید کی اس آیت کا حوالہ دیا ہے: وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔(البقرة : ۱۵۶ تا ۱۵۸) { اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔ان لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔خواہ مرد ہوں یا عورتیں خواہ ایک کی موت کا صدمہ ہو یا دو کا؛ صبر کرنے پر انہیں بشارت ہے کہ وہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دکھ اور درد کی آگ سے محفوظ و مامون ہو کر اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے۔اسلام کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین اور آپ کے اسوہ حسنہ نے مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے موت کا تصور ہر پہلو سے جنت کے تصور میں تبدیل کر دیا تھا۔روایت نمبر ۱۲۴۸ کے الفاظ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ کی تشریح دوسری روایت ( نمبر ۱۲۴۹) کے الفاظ كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِّنَ النَّارِ کرتے ہیں۔قرآن مجید نے حسرتوں کو بھی آگ سے تعبیر فرمایا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاً مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُ وُا مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ۔وَمَا هُمُ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ (البقره: ۱۶۸) { اور وہ لوگ جنہوں نے پیروی کی کہیں گے کاش! ہمیں ایک اور موقع ملتا تو ہم ان سے اسی طرح بیزاری کا اظہار کرتے جس طرح انہوں نے ہم سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔اسی طرح اللہ انہیں ان کے اعمال ان پر حسرتیں بنا کر دکھائے گا اور وہ (اس) آگ سے نکل نہیں سکیں گے۔}