صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 627
حيح البخاری جلد ۲ تشریح: ۶۲۷ ٢٣ - كتاب الجنائز الرَّجُلُ يَنْعَى إِلى اَهْلِ الْمَيِّتِ بِنَفْسِهِ: زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ موت کی خبر کا اعلان کرنے کے لئے ایک سوار بھیجا جاتا تھا، جو گھر گھر اور بازاروں میں منادی کرتا اور جس قد ر اجتماع کسی کی موت پر ہوتا اسی قدر فخر کیا جاتا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے اعلانوں اور اجتماعوں سے روک دیا۔ابن ماجہ اور من الله ترندی نے حضرت حذیفہ کی یہ روایت نقل کی ہے: إِني سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ بِأَذْنَيَّ هَاتَيْنِ يَنْهَى عَنِ النَّعِي۔ابن ماجه۔كتاب ما جاء في الجنائز باب ما جاء في النهى عن النعي) (ترمذى۔كتاب الجنائز، باب ما جاء في كراهية النعی) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں کانوں سے اعلان موت کرنے سے روکتے سنا اور اسی وجہ سے اگر حضرت حذیفہ کے ہاں کوئی موت کا واقعہ ہو جاتا، تو وہ اطلاع دینے سے روک دیتے اور کہتے : إِني أَخَافُ أَنُ يَكُونَ نَعُیا میں ڈرتا ہوں کہ یہ اطلاع اعلان موت نہ ہو جائے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه (۱۵) مگر جیسے زمانہ جاہلیت کا طریق از قبیل افراط تھا یہ طریق تفریط ہے۔اسلام نے خویش و اقرباء کو اطلاع دینے سے نہیں روکا بلکہ اس سے روکا ہے کہ لوگوں کو تشویش میں ڈالے۔فلسفہ موت پر غور کرنے سے مشیئت الہی یہی معلوم ہوتی ہے کہ موت اپنا کام ایسے طریق سے کرے کہ اس کا المناک اثر ایک خاص دائرہ میں محدودر ہے اور باقی دنیا اطمینان سے اپنا کام کرتی رہے۔غرض موت کی خبر دینافی ذاتہ معیوب نہیں بلکہ وہ طریق معیوب ہے جو ایسے موقعوں پر مشرک اقوام میں رائج تھا اور اب بھی بعض جگہ ہے۔امام بخاری نے روایت نمبر ۱۲۴۵، ۱۲۴۶ سے مسئلہ مذکور کے جواز کا استدلال کیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ اطلاعیں خارجی ذرائع کی بنا پر نہ تھیں بلکہ از قبیل مکاشفہ یا رویا تھیں جو پوری ہوئیں۔یہ واقعات کتاب الجنائز اور کتاب المغازی میں مفصل مذکور ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ جب نجاشی کی موت کا آپ نے اعلان فرمایا تو اس وقت مدینہ میں اس کے رشتہ داروں میں سے مخمر بن اخي النجاشی موجود تھے جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ مدینہ میں آئے تھے۔اس مناسبت سے اور اس لئے کہ مسلمان ہی درحقیقت نجاشی کا جو مسلمان ہو چکے تھے جنازہ پڑھنے کے اہل تھے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۱۵۱) روایت نمبر ۱۲۴۶ میں جنگ موتہ کی طرف اشارہ ہے جو شام کی سرحد پر ہوئی۔اس جنگ میں حضرت زید بن حارث سپہ سالار مقرر ہوئے تھے جو آزاد شدہ غلام تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر وہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر اور یہ شہید ہو جائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ سپہ سالار ہوں گے۔مسلمانوں کی طرف سے تین ہزار فوج تھی اور دشمن کا لشکر ایک لاکھ کے قریب تھا۔یہ تین جلیل القدر صحابی یکے بعد دیگرے میدان جنگ میں کام آئے۔آخر حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔مذکورہ بالا تینوں صحابہ کی شہادت کی خبر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ کشف یا وحی علم پا کر قبل از وقت دی۔ان قابل قدر اور مخلص ساتھیوں کی جدائی کے خیال پر آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔عنوان باب میں فقیرہ بنفسہ سے جہاں معنونہ مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے وہاں اس رائے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ یہ اطلاع آپ نے خود دی تھی۔میدان جنگ سے اس کے متعلق اطلاع نہیں پہنچی تھی۔