صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 628 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 628

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۲۸ ٢٣ - كتاب الجنائز بَابه : الْإِذْنُ بِالْجَنَازَةِ جنازہ کی اطلاع وَقَالَ أَبُو رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اور ابو رافع نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مروی ہے کہ انہوں ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ أَلَّا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي۔ فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟ ١٢٤٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا أَبُو ۱۲۴۷: محمد بن سلام بیکندی) نے ہم سے بیان مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِي عَنِ کیا، (کہا:) ابو معاویہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے الشَّعْبِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ ابوالحق شیبانی سے، شیبانی نے شعبی سے شعبی نے عَنْهُمَا قَالَ مَاتَ إِنْسَانٌ كَانَ رَسُولُ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَمَاتَ انہوں نے کہا: ایک آدمی فوت ہو گیا ، جس کی عیادت بِاللَّيْلِ فَدَفَنُوْهُ لَيْلًا فَلَمَّا أَصْبَحَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ وہ رات کو أَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي فوت ہوا اتو لوگوں نے اسے رات کو ہی دفن کر دیا۔ قَالُوْا كَانَ اللَّيْلُ فَكَرِهْنَا وَكَانَتْ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے آپ کو خبر دی ۔ آپ نے ظُلْمَةٌ أَنْ تَشَقَّ عَلَيْكَ فَأَتَى قَبْرَهُ فرمایا: تمہیں کس نے روکا تھا کہ مجھے اطلاع دے دیتے۔ انہوں نے کہا: رات تھی اور اندھیرا تھا اس لیے فَصَلَّى عَلَيْهِ۔ ہم نے نا پسند کیا کہ آپ کو تکلیف دیں۔ آپ اس کی قبر پر آئے اور نماز ( جنازہ) پڑھی۔ اطرافه ۸۵۷، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ۱۳۲۲، ۱۳۲۶، 1336، 1340۔ تشریح : الأُذُنُ بِالْجَنَازَةِ: عنوان باب میں حضرت ابو ہریرہ کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ كتاب الصلوۃ باب ۷۲ روایت نمبر ۴۵۸ و باب ۷۴ روایت نمبر ۴۶۰ میں دیکھئے ۔ مرنے والی ام مجن تھیں اور وہ شخص جس کا ذکر روایت نمبر ۱۲۴۷ میں کیا گیا ہے، حضرت طلحہ بن براء تھے۔ موت کی خبر دینے سے جنازے کی منادی نہیں ہو جاتی۔ اس لئے چاہیے کہ اس کی عام اطلاع کی جائے تا لوگ جنازے میں شامل ہو سکیں ۔