صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 622
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۲۴ ٢٣ - كتاب الجنائز وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَخَّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ دھاریوں والی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا۔ (حضرت فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ ابوبکر ) نے آپ کے منہ سے کپڑا ہٹا ۔ پ کے منہ سے کپڑا ہٹایا۔ پھر آپ پر جھکے فَقَبَّلَهُ ثُمَّ بَكَى فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا یا اور آپ کا بوسہ لیا اور پھر رو پڑے اور کہا: اے اللہ کے نَبِيَّ اللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَمَّا بی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ اللہ تعالیٰ آپ پر الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَهَا دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا۔ وہ موت جو اللہ تعالیٰ * قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسِ نے آپ کے لئے مقدر کی ہوئی تھی آپ پر وارد ہو چکی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ ہے۔ ابوسلمہ کہتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور عَنْهُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَلِّمُ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے۔ النَّاسَ فَقَالَ اجْلِسُ فَأَبَى فَقَالَ اجْلِسُ (حضرت ابوبکر) نے کہا: بیٹھو۔ وہ نہ مانے۔ پھر کہا: بیٹھو فَأَبَى فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وہ نہ مانے۔ اس پر حضرت ابوبکر نے کلمہ شہادت پڑھا فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَتَرَكُوْا عُمَرَ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا اور لوگ ان کی طرف بڑھے اور حضرت عمرؓ کو چھوڑ دیا تو حضرت ابوبکر نے کہا: اما بعد ۔ اگر تم میں سے کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا تو یہ دیکھو محمد صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ وَمَنْ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں اور جوار جو اللہ کی پرستش کرتا تھا كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيَّ لَا يَمُوْتُ اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے وہ کبھی مرنے والا قَالَ اللهُ تَعَالَى: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور محمد تو ایک پیغمبر ہی ہے قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ اس سے پہلے بھی پیغمبر فوت ہو چکے ہیں۔ پس کیا اگر یہ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ، وَمَنْ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللهَ شَيْئًا بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ جائے گا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ اور (آل عمران : ١٤٥) اللہ یقیناً شکر گزاروں کو جزا دے گا۔} فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں "كَبَتُ عَلَيْكَ کی بجائے "كَتَبَ اللهُ عَلَيْكَ“ کے الفاظ ہیں۔ ( فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۱۴۷)