صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 623 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 623

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۳۳ ٢٣ - كتاب الجنائز فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُوْنُوْا يَعْلَمُوْنَ اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے لوگ اس وقت تک أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الْآيَة حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرِ که حضرت ابو بکر نے اسے پڑھا ، جانتے ہی نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل کی تھی اور گویا لوگوں نے حضرت ابو بکر سے اس آیت کا علم حاصل کیا ہے، پھر تو رضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ فَمَا يُسْمَعُ بَشَرٌ إِنَّا يَتْلُوهَا۔جس انسان کو سنو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا۔اطراف الحدیث ١٢٤١ ٣٦٦٧ ٣٦٦٩ ٤٤٥٢، ٤٤٥٥، ٥٧١٠ اطراف الحديث ١٢٤٢: ٣٦٦٨، ٣٦٧٠ ٤٤٥٣، ٤٤٥٤، ٤٤٥، ٥٧١١ ١٢٤٣ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۱۲۴۳: يحيی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْل عَن ابْن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: خارجہ بن زید بن ثابت نے بن ثَابِتٍ أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةٌ مِنَ مجھے بتایا کہ حضرت ام العلاء نے جو ایک انصاری عورت تھیں الْأَنْصَارِ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہوئی تھی ، انہیں وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ اقْتُسِمَ الْمُهَاجِرُوْنَ بتایا۔مہاجرین قرعہ ڈال کر تقسیم کر دئے گئے۔حضرت عثمان بن مطعون ہمارے حصہ میں آئے اور ہم نے ان کو اپنے اعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطْعُونٍ گھروں میں مہمان رکھا۔پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي جس میں انہوں نے وفات پائی۔جب وہ فوت ہوئے اور تُوُفِّيَ فِيْهِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسَلَ وَكُفْنَ فِي انہیں غسل دیا گیا اور وہ اپنے ہی کپڑوں میں کفنائے گئے تو أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے۔میں نے کہا: اے وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا ابوالسائب ( عثمان بن مظعون ) ! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ تمہاری نسبت میری گواہی ہے کہ ضرور ہی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت دی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! أَكْرَمَكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيْكِ أَنَّ اللهَ قَدْ أَكْرَه مه میرا باپ آپ پر قربان۔پھر اللہ اور کس کو عزت دے گا؟ تو فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَمَنْ آپ نے فرمایا: اس کی تو یہ حالت ہے کہ اس پر موت وارد يُكْرِمُهُ اللهُ فَقَالَ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ ہو چکی ہے اور بخدا میں اس کے لئے بھلائی ہی کی امید رکھتا