صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 623
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُوْنَ اللہ کی قسم ! ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے لوگ اس وقت تک أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الْآيَة حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرِ که حضرت ابوبکر نے اسے پڑھا، جانتے ہی نہ تھے کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ فَمَا اللہ تعالیٰ نے یہ آ یہ آیت بھی نازل کی تھی اور گویا ں اور گویا لوگوں نے يُسْمَعُ بَشَرٌ إِلَّا يَتْلُوْهَا ۔ حضرت ابو بکر سے اس آیت کا علم حاصل کیا ہے، پھر تو جس انسان کو سنو وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا۔ اطراف الحديث ١٢٤١ ٣٦٦٧ ، ٣٦٦٩، ٤٤٥٢، 4455، 5710۔ اطراف الحديث :١٢٤٢: ٣٦٦٨، ٣٦٧٠ ، ٤٤٥٣، ٤٤٥٤ ، 4457، 5711۔ ١٢٤٣: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۱۲۴۳: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ۔ انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شہاب شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: خارجہ بن زید بن ثابت نے بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنَ مجھے بتایا کہ حضرت ام العلاء نے جو ایک انصاری عورت تھیں الْأَنْصَارِ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسل کی بیعت کی ہوئی تھی ، انہیں وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ اقْتُسِمَ الْمُهَاجِرُوْنَ بتایا۔ مہاجرین قرعہ ڈال کر تقسیم کر دئے گئے ۔ حضرت عثمان بن مظعون ہمارے حصہ میں آئے اور ہم نے ان کو اپنے قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ گھروں میں مہمان رکھا۔ پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے اور فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي جس میں انہوں نے وفات پائی۔ جب وہ فوت ہو۔ تُوُفِّيَ فِيْهِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِلَ وَكُفْنَ فِي انہیں غسل دیا گیا اور وہ اپنے ہی کپڑوں میں کفنائے گئے تو أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے۔ میں نے کہا: اے وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْكَ أَبَا ابو السائب ( عثمان بن مظعون ) ! تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ تمہاری نسبت میری گواہی ہے کہ ضروری اللہ تعالی نے تمہیں أَكْرَمَكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عزت دی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: کیا پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت دی ہے؟ میں نے کہا: یا رسول الله ! وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيْكِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَكْرَمَهُ میرا باپ آپ پر قربان ۔ پھر اللہ اور کس کو عزت دے گا ؟ تو فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَمَنْ آپ نے فرمایا: اس کی تو یہ حالت ہے کہ اس پر موت وارد يُكْرِمُهُ اللهُ فَقَالَ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ ہو چکی ہے اور بخدا میں اس کے لئے بھلائی ہی کی امید رکھتا